ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا رائٹرز نيوز ايجنسی كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ اس نامور مفنر نے ٹمپل،ن انعام ﴿جو كہ تحقيق و حقائق معنوی كشف كرنے والوں كو ديا جاتا ہے ﴾كو حاصل كرنے كے بعد اظہار كيا خيال كرتے ہوۓ كہا كہ امريكہ نے مسلمانوں اور مغربی ممالك كے مابين اختلافات كی خليج كو وسيع كيا ہے اور ۱۱ ستمبر كے واقعہ كے بعد امريكہ كے پاس یہ موقع تھا كہ وہ مسلمانوں اور مغربی ممالك میں پاۓ جانے والے شكوك و شبہات كو دور كرتا ليكن اس نے یہ نادر موقع گنوا ديا
اس كينڈين مفكر نے جو كہ امريكہ میں ساكن ہے كہا ہے كہ عراق كے خلاف جنگ اور اس پر قبضہ كرنا امريكہ كی غلط پاليسی كا حصہ ہے –
اس ۷۵ سالہ مفكر جو كہ يونيورسٹی كے پروفيسر بھی ہیں نے كہا ہے كہ جب اسلام كو دہشت گردی كے ساتھ ضميمہ كر كے ديكھا جاۓ گا تو نتيجہ يقينا بر عكس ہی نكلے گا –
واضح رہے كہ كچھ عرصہ قبل او آئی سی كے چيئرمين احسان اوغلو نے مغربی میڈيا سے درخواست كی تھی كہ اسلام اور مسلمانوں كے حقيقی چہرے كو بيان كيا جاۓ-