ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے سعودی روزنامہ الوطن كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ حسان موسی نے كہا ہے كہ دين میں شدت پسندی كی كوئی گنجائش نہیں ہے اور جو علماء دين كی آڑ میں ايك دوسرے پر كفر كے فتوے لگاتے ہیں در اصل دہشت گردی كے وہی ذمہ دار ہیں انہوں نے كہا كہ یہ علماء كا وظيفہ ہے كہ ايسی شدت پسندی كی سختی سے سركوبی كریں –
قابل زكر ہے كہ حسان موسی الجزائر كے باشندے ہیں جنہوں نے مدينہ منورہ كی يونيورسٹی سے تعليم حاصل كی ہے اور آج كل سویڈن میں زندگی بسر كر رہے ہیں –