ايك روايت كی بنا پر سترہ ماہ مبارك رمضان كی رات ،بعثت كے بارھویں سال ،پيغمبر اكرمۖ نے خداوند كريم كے حكم سے مكہ سے بيت المقدس كی طرف سير كرتے ہوۓ آسمانوں كی طرف عروج كيا –سورہ اسراء كی پہلی آيت میں اس عظيم معجزہ كو بيان كيا گيا ہے-اس آيت شريفہ اور حضرت محمدۖ كے فرمودات كے مطابق ،وہ معراج میں بہت سے الھی اسرار،جہان خلقت كے رموز اور دوسرے جہان میں ،انسانوں كی تقدير سے آگاہ ہوۓ-اس آسمانی سفر میں پيغمبر اكرمۖ كی سواری كا نام براق تھا اور خداوند كے عظيم فرشتہ ،حضرت جبراﺋيلۜ ،آنحضرتۖ كے ہمراہ تھے اور پيغمبر اكرمۖ كو عالم ملكوت ،آسمانوں كے فرشتوں اور جنت و جہنم اور اس عالم كی تمام ديكھنے والی چيزیں دكھائی ﮔﺋیں –پيغمبر اكرمۖ كے عظيم معجزات میں سے یہ ايك عظيم معجزہ ہے جو ان كی منزلت اور عظمت كی بلندی كا منہ بولتا ثبوت ہے