ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی (ايكنا) نے بی بی سی كے حوالے سے كھا كه رومن كيتھولك عيسائيوں كے مذہبی پيشوا پوپ بينیڈكٹ XVI نے دنيا بھر كے مذہبی پيشواؤں سے اپيل كی ہے كہ وہ خدا كا نام تشدد كو صحيح ثابت كرنے كے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
نيپلز میں ايك امن اجلاس كے موقع پر پوپ كا كہنا تھا كہ ’مذاہب كو كبھی بھی نفرت كا آلۂ كار نہیں بننا چاہیے‘۔
ايك كيتھولك تنظيم كی جانب سے منعقدہ اس تين روزہ اجلاس میں مسلمان، عيسائی، یہودی، بدھ، ہندو اور زرتشت مذاہب كے علماء اور پيشوا شريك ہیں۔
اس اجلاس میں شركت كرنے والوں میں آرچ بشپ آف كنٹربری رووان وليمز، اسرائيل كے سب سے بڑے ربّی يونا مزگر اور متحدہ عرب امارات كے امام ابراہيم عزالدين بھی شامل ہیں۔
اجلاس سے خطاب میں پوپ بينیڈكٹ كا كہنا تھا كہ’ ايك ايسی دنيا میں، جو لڑائيوں كا نشانہ ہے،جہاں خدا كا نام تشدد كو جائز قرار دينے كے لیے استعمال كيا جاتا ہے، یہ بہت ضروری ہے كہ اس بات كو دہرايا جائے كہ كوئی بھی مذہب كبھی بھی نفرت كا آلۂ كار نہیں بن سكتا اور اسے كبھی بھی تشدد كو جائز قرار دينے كے لیے استعمال نہیں كيا جا سكتا‘۔
انہوں نے كہا كہ’اس كے برعكس مذاہب كو ايك امن پسند انسانيت كی تشكيل كے لیے اپنی تعليمات پيش كرنی چاہيئیں كيونكہ وہ انسان كے اطمينانِ قلب كی بات كرتے ہیں‘۔
پوپ نے كہا كہ مختلف مذاہب كے درميان موجود اختلافات كا احترام كرتے ہوئے قيامِ امن اور باہمی اتفاق كے لیے كام كيا جانا چاہیے۔