ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی (ايكنا) نے بی بی سی كے حوالے سے كھا هے كه شاہ عبداللہ پير كی دوپہر برطانیہ پہنچ رہے ہیں تاہم ان كے دورے كا باقاعدہ آغاز منگل كو ہوگا۔ یہ بيس برس میں كسی سعودی حكمران كا برطانیہ كا پہلا دورہ ہے۔
انٹرويو میں شاہ عبداللہ كا یہ بھی كہنا تھا كہ عالمی دہشتگردی كے خاتمے میں بيس سے تيس برس كا عرصہ لگ سكتا ہے۔ انہوں نے كہا كہ دہشتگردی كے خلاف جنگ میں برطانیہ جيسے ممالك كو مزيد كوششیں كرنے كی ضرورت ہے۔
سعودی شاہ كا كہنا تھا كہ برطانیہ سعودی حكومت كی جانب سے فراہم كردہ معلومات سے فائدہ اٹھانے میں ناكام رہا اور اگر وہ ايسا كرنے میں كامياب ہوتا تو دہشت گردوں كے حملے روكے جا سكتے تھے۔ برطانوی حكام اس بات سے انكار كرتے ہیں اور سلامتی كے امور كے بارے میں پارليمانی كمیٹی كو بھی تحقيق كے بعد ايسے شواہد نہیں ملے كہ سعودی حكام نے ايسی اطلاعات فراہم كی تھیں جن سے سات جولائی كے حملے رك سكتے تھے۔
ترجمان كے ذريعے بات كرتے ہوئے شاہ عبداللہ نے كہا كہ ان كے نزديك زيادہ تر ممالك اس معاملے كو سنجيدگی سے نہیں لے رہے ہیں اور’بدقسمتی سے برطانیہ ان میں سے ايك ہے‘۔
ادھر سعودی بادشاہ كے دورۂ برطانیہ كے موقع پر سعودی سفارتخانے كے باہر ايك مظاہرے كا بھی منصوبہ بنايا گيا ہے جس كا موضوع سعودی عرب میں انسانی حقوق كی صورتحال ہوگا۔
لبرل ڈيموكریٹ رہنما ونس كيبل نے شاہ عبداللہ كے دورے كا بائيكاٹ كرنے كا اعلان كيا ہے اور ان كا كہنا ہے كہ اس بائيكاٹ كی دو اہم وجوہات اليمامہ اسلحہ سودا اور سعودی عرب میں حقوِق انسانی كی صورتحال ہے۔
حقوقِ انسانی كی بين الاقوامی تنظيم ايمنسٹی انٹرنيشنل نے بھی برطانوی وزيراعظم گورڈن براؤن سے كہا ہے كہ وہ سعودی شاہ كو بتا دیں كہ حقوقِ انسانی كے حوالے سے ان كے ملك كا ريكارڈ ’بالكل قابلِ قبول نہیں‘۔