حضرت فاطمہ معصومہ اپنے وقت كی زبردست عالمہ اور محدثہ ہونے كے ساتھ ہی ساتھ زہد وتقویٰ میں بھی نمونہ سمجھی جاتی تھیں مامون كے اصرار پر امام علی رضا علیہ السلام كے مدينہ سے طوس چلے آنے كے بعد حضرت معصومہ نے اپنے بھائی امام علی رضا علیہ السلام سے ملاقات كے لئے مدينہ سے خراسان كا سفر كيا ليكن راستے میں ساوہ كے مقام ان كے ساتھ آئے رشتہ داروں پر حملہ ہو گيا جس میں آپ كے دو بھائی بھی شہيد ہو گئے اس كے بعد آپ قم تشريف لائیں اور مختصر بيماری كے بعد قم شہر میں ہی آپ كی وفات ہوئی ۔قم میں آپ كا روضہ خاص و عام كی زيارت گاہ ہے اور آپ كے جوار میں دنيا كا سب سے بڑا حوزہ علمیہ ہے جو اسلام كے صحيح اور حقيقی افكار كی نشر و ترويج كا ايك بڑا مركز ہے ۔