حاج شيخ فضل اللہ نوری ،عراق میں مرزا بزرگ شيرازی كے مایہ ناز شاگردوں میں سے تھے- انہوں نے سن ۱۳۰۰ ھ ق كو تہران آكر سياست كے دين سے جدائی كے خلاف سخت جدو جہد كی –شيخ فضل اللہ نوری ،مشروطيت كے آغاز میں ،اس تحريك كے ہراول مجاھدين میں شمار ہوتے تھے وہ سيد عبد اللہ بھبھانی اور سيد محمد طباطبائی كے شانہ بشانہ ظلم و استبدداد كے خلاف جدو جہد میں مشغول رہے –ليكن كچھ عرصہ كے بعد وہ اس تحريك كی راہ میں بہاۓ جانے والے خون كو پايمال كرنے كے پوشيدہ اور پليد ہاتھوں كو بھانپ گۓ تھے كہ وہ الھی قوانين كے نفاذ اور ان كی رعايت كرنے والے مشروطہ كو نہیں چاہتے بلكہ وہ ايسی حكومت چاہتے ہیں جس كے مقابلے میں عوام خاموش ہو جاﺋیں –لہذا شيخ فضل اللہ نے اس غير شرعی مشروطہ كا باﺋيكاٹ كر ديا –دوسری طرف شيخ كی مخالف پارٹيوں نے ايك من گھڑت عدالت میں ان كو موت كا حكم سنا كر ۱۳ رجب سن ۱۳۲۷ ھ ق كو اس بلند مرتبہ مجتہد كو پھانسی پر لٹا ديا -