پانچویں امام ،حضرت امام محمد باقر ۜ ۷ ذيحجہ سن ۱۱۴ ھ ق كو اموی خليفہ ھشام بن عبد الملك كے ہاتھوں مدينہ منورہ میں مسموم ہوۓ اور انہیں قبرستان بقيع میں امام حسن مجتبی ۜ اور امام سجاد ۜ كےجوار میں سپرد خاك كيا گيا –شہادت كے وقت آنحضرت كی عمر مبارك ۵۷ سال اور امامت كی مدت ۲۰ سال تھی –آنحضرت ۜ نے اپنی امامت كے دوران پيش آنے والے مواقع سے استفادہ كرتے ہوۓ شاگردوں كی تربيت كی تشيع كی قوت كو وسعت دينے اور ثقافتی انقلاب كے لیے بہت كوششیں كیں ۰امام باقرۜ نے اس فرصت ك واپنی پوری كوشش كے ساتھ اسلامی علوم كی نشر واشاعت اور تعليم دينے اور مایہ ناز محققين پر مشتمل ايك عظيم علمی مركز كی بنياد ركھنے میں صرف كی –اس حساس اور اہم فرصت نے اسلامی تہذيب و تمدن كی تاريخ اور بعد كے دور میں اسلام كی ترقی میں بہت اہم كردار ادا كيا-
مناست آيات و روايات:
امام باقرۜ نے فرمايا: جو شخص اندرونی واعظ نہ ركھتا ہو تو لوگوں كی وعظ و نصيحت اس كو فائدہ نہیں پہنچا سكتی (بحار الانوار ج۷۸ ص۱۷۳)
امام باقرۜ نے فرمايا:ہمارا شيعہ صرف وہ ہے جو متقی اور خدا كا فرمانبردار ہو (تحف العقول ص۲۹۵)
امام باقرۜ نے فرمايا:اپنے نفس كی معرفت سے عجب (خود پسندی) كا راستہ بند كرو(تحف العقول ص۲۸۶)
امام باقرۜ نے فرمايا:تين چيزیں خدا كی رحمت كی علامت ہیں :رات كی عبادت ،روزہ دار كو افطار دينا ،دوستوں سے ملاقات (الامالی ـطوسی ص۱۷۲)
امام باقرۜ نے فرمايا:پروردگار !ميرے تمام بھائيوں ،بہنوں اور دوستوں كی اصلاح فرما ،كہ ان كی صلاح ميری صلاح ہے (قرب الاسنادص۱۸)
امام باقرۜ نے فرمايا:كردار كی سچائی سے اپنے آپ كو خدا كے لیے آراستہ كرو(بحار الانوار ج۷۸ ص۱۶۷)
امام باقرۜ نے فرمايا:ہماری كلام دلوں كو زندہ كرتی ہے (بحار الانوار ج۲ ص۱۵۵)
امام باقرۜ نے فرمايا:جس شخص كا ظاہر اس كے باطن سے بہتر ہو اس كے اعمال كا ترازو ہلكا ہوگا(مشكاة الانوار ص۵۵۴)
امام باقرۜ نے فرمايا:لالچ كو ختم كركے عزت كی پايداری حاصل كرو(تحف العقولص۲۸۶)
امام باقرۜ نے فرمايا:قيامت كے دن سب سے زيادہ حسرت كھانے والا وہ شخص ہے جو عدل و انصاف كی بات كرۓ ليكن دوسرں سے اس كے خلاف پيش آۓ(بحار الانوار ج۷۸ ص۱۷۹)
امام باقرۜ نے فرمايا:نماز اخلاص كی پايداری اور غرور سے دوری كا سبب ہے (الامالی ،طوسی ص۲۹۶)