حضرت ابراہيم ۜ نے خواب میں اپنے بیٹے كو ذبح كرتے ديكھا اور تين مرتبہ خواب ديكھنے كے بعد اس مسئلہ كو اپنے بیٹے حضرت اسماعيلۜ كے سامنے پيش كيا-اسماعيل نے اس الہی حكم كو خندہ پيشانی سے قبول كيا اور اپنے آپ كو اس حكم كے جاری كرنے كے لیے تيار كرتے ہیں -حضرت ابراہيم ۜ اور اسماعيل ۜ كے خدا كے حكم كی تعميل كی خاطر آمادہ وہن ےكے بعد خداوند كی طرف سے ايك دنبہ قربانی كے لیے بھيجا جاتا ہے اور یہ باپ بیٹا اس الہی امتحان میں كامياب ہو جاتے ہیں اس كے بعد سے ۱۰ ذيحجہ كا دن ،عيد قربان كے نام سے منايا جاتا ہے-
مناسب آيات اور روايات:
پيغمبر اكرمۖ نے فرمايا: قربانی كے خون كا پہلا قطرہ زمين پر گرنے سے ،قربانی كرنے والا بخشا جاتا ہے(من لا يحضرہ الفقیہ ،ج۲ ص۲۱۴)
پيغمبر اكرمۖ نے فرمايا: خداوند نے عيد قربان كو اس لیے قرار ديا ہے تاكہ مساكين گوشت سے سير ہو جائیں ،پس قربانی كے گوشت میں سے ان كو كھلايا جاۓ(ثواب الاعمال ص۵۹)
پيغمبر اكرمۖ نے فرمايا :جس كی نيت سچی ہو ،اس كی قربانی كا پہلا قطرہ اس كے تمام گناہوں كا كفارہ ہے( دعائم الاسلام ،ج۱ ص۱۴۸)
امام باقر ۜ نے فرمايا :خداوند كريم قربانی كرنے اور كھانا كھلانے كو پسند كرتا ہے(المحاسن ج۲ ص۱۴۳)
امام سجاد ۜ نے فرمايا: حاجی كا قربانی كرنا ،آگ كے مقابلہ میں اس كا فدیہ ہوگا(بحار الانوار ج۹۹ ص۲۸۸)