آخوند ملا محمد كاظم خراسانی سن ۱۲۵۵ ھ ق كو مشہد میں پيدا ہوۓ اور ۱۲ سال كی عمر میں حوزہ علمیہ مشہد مقدس میں داخل ہوۓ –انہوں نے كچھ مہينے ملا ھادی سبزواری اور تہران میں مرزا ابو الحسن جلوہ كے درس میں شركت كی اور آكر كار وہ نجف اشرف جا كر مرزا شيرازی اور شيخ مرتضی انصاری كے درس میں شركت كرنے لگے-آخوند نے تيرہ سال ٬مرزا شيرازی كے درس سے استفادہ كيا اور آہتسہ آہستہ ٬نجف میں آخوند كی علمی شہرت كی صدا بلند ہو گئی –استاد كی وفات كے بعد وہ ايك مایہ ناز مجتہد اور حوزہ كے كامياب استاد تے اور انہوں نے كافی شاگردوں كی تربيت كی آيات عظام :سيد ابو الحسن اصفہانی ٬سيد ابو القاسم كاشانی ٬سيد محمد تقی خوانساری ٬سيد حسن مدرس٬ سيد صدر الدين صدر ٬آقا ضيا عراقی ٬شيخ عبد الكريم حائری ٬مرزا نائينی ٬سيد محمد حسين بروجردی ٬سيد محمود شاہرودی اور دسيوں دوسرے علماء ان كے شاگردوں میں سے تھے –علاوہ از اين ان كی متعدد تاليفات ہمارے درميان موجود ہیں جن میں سے اہم ترين كتاب كفاية الاصول ہے –سياسی جدو جہد كے لحاظ سےبھی آخوند مشروطيت كے حاميوں میں سے تھے اور اس كے بارے میں انہوں نے بہت زيادہ كوشش بھی كیں –طے تھا كہ نجف كربلا كاظمين كے بہت سے علماء ايران جانے كے لیے اپنے آپ كو آمادہ كریں اسی طرح آخوند خراسانی بھی ايران جانے كے لیے تيار تے كہ شب بدھ ۲۱ ذيحجہ سن ۱۳۲۹ ھ ق كو دل كے درد میں مبتلا ہو گۓ اور نماز صبح قائم كرنے كے بعد ۷۴ سال كی عمر میں اپنے خالق حقيقی سے جا ملے –بعض كہتے ہیں كہ وہ روسی اور برطانوی جاسوسوں كے ہاتھوں مسموم ہو گۓ تھے –انتہائی شان و شوكت س تشيع كے بعد انہیں امام علی ۜ كے حرم مطہر میں سپرد خاك كر ديا گيا