بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ كی رپورٹ كے مطابق محيط سائیٹ نے لكھا ہے كہ ٫٫ احمدیہ ٹی وی ٬٬ چينل جو گمراہ فرقہ احمدیہ كی طرف سے مصر سے اپنی نشريات پيش كرتا ہے ، یہ چينل اپنے پروگراموں میں اسلام نمائی كرتا ہے اور پھر لا دينيت كو پھيلانے كے لیے اپنی نشريات كا دنيا كی زندہ زبانوں میں ترجمہ پيش كرتا ہے ۔
گمراہ فرقہ قاديانیہ كا تاريخی پس منظر :
احمدیہ ﴿ قاديانیہ ﴾ گمراہ اور اسلام نما فرقہ ہے جس كی بنياد ميرزا غلام احمد نے ہندوستان كے خطہ پنجاب كے شہر قاديان سے ۱۸۸۹ ء میں ركھی اور پھر اس كی موت كے بعد ابھی تك پانچ افراد نے خلفاۓ احمدیہ اور ادعاء نبوت كے ساتھ اس فرقہ كی راہنمائی كی ہے ۔
غلام احمد اس فرقہ كا پہلا قائد تھا وہ ۴۰ سال كی عمر میں نبوت كا دعوی دار بنا اس كا كہنا تھا كہ خداوند نے اسے عالم خواب میں یہ الہام كيا ہے وہ چودھویں صدی كا نبی ہے اور تجديد دين كے لیے وہ بشريت كی خدمت كرے ۔
قاديانيوں كے منحرف عقائد :
احمدیہ فرقہ كے پيرو كار كچھ باطل نظريات پر كار بند ہیں جن میں سے سب سے اہم قرآن كے بارے میں ان كا باطل نظریہ یہ ہے كہ قرآن وہی ميرزا غلام احمد كی لكھی ہوئی كتاب ٫٫ المبين ٬٬ ہے جس میں وہی وحی الہی ہے جو خدا كی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے ۔
اس فرقہ كے راہنماٶں نے اپنی ظاہری سياست پاليسوں اور خدا پر ايمان كا دعوی ، قرآن اور پيغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ايمان كا دعوی كر كے مختلف پروگرموں ، گول ميز كانفرنسوں كے ذريعہ كئی عيسائی افكار اور اسلامی نظريات اور كچھ شيعہ اعتقادات كا انكار كر كے یہ ايمان ركھتے ہیں كہ حضرت مہدی علیہ السلام اور حضرت مسيح علیہ السلام اپنے زمانہ كے پيغمبر تھے جنہوں نے تجديد خلافت كے لیے ظہور كيا ۔
یہ گمراہ فرقہ قرآنی معجزات كا انكار كرتے ہوۓ مدعی ہے كہ قرآنی آيات میں آنے والی یہ بات كہ درياۓ نيل حضرت موسی علیہ السلام كے عصا سے شق ہوا اور بنی اسرائيل وہاں سے گذرے یہ صحيح نہیں ہے بلكہ دريا كا درميانی حصہ بلند تھا اور وہ پہلے سے ہی خشك تھا ، اسی طرح وہ مدعی ہیں كہ ھد ھد ، سورہ نمل ايك مرد كا نام ہے اور نملہ بھی ايك عورت تھی ۔
یہ گمراہ فرقہ كہتا ہے كہ حضرت ابراہيم علیہ السلام كا خدا سے مردہ پرندوں كو دوبارہ زندہ كرنے كی درخواست كرنا كہ ٫٫ رب ارنی كيف تحی الموتی ٬٬ درست نہیں ہے اور اس آيت كی وہ يوں تفسير بيان كرتے ہیں كہ حضرت ابراہيم علیہ السلام اپنی قوم كو دعوت اور ان كے مردہ دلوں كی حيات كا تقاضا كيا ہے یہ فرقہ پيغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم كے خاتم الانبياء ہونے كی نفی كرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم كو صرف بہترين اور كامل ترين نبی سمجھتا ہے اور معتقد ہے كہ نبی مكرم اسلام كے بعد بھی كئی پيغمبر آۓ جنہوں نے دين كی تجديد كے لیے جدو جہد كی ۔
حال حاضر میں اس گمراہ فرقہ كا قائد نبوت كا مدعی ہے اور خود كو مہدی موعود يا مسيح سمجھتا ہے اور ٫٫ مہاراجہ ٬٬ كے مشابہ لباس پہن كر انسانيت كی راہنمائی كو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے ۔
خدا كی ذاتی صفات كا انكار ، آدم و حوا كا اولين انسان ہونے كے ناطے انكار ، جنات كے وجود كا انكار وغيرہ اس فرقہ كے ديگر باطل نظريات ہیں ۔
اس فرقہ كے پيروكار خود كو دينی اور غير سياسی گروہ سمجھتے ہیں اور مدعی ہیں كہ اس فرقہ كے معاصر انبياء تجديد اسلام اور نشر دين كو صلح پسندانہ راستوں سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں لہذا مسلمانوں كو چاہیے كہ وہ مختلف معاشروں میں قائم ہر قسم كی حكومتوں كو قبول كرتے ہوۓ اپنے كام سے كام ركھیں ۔
یہ فرقہ برطانیہ میں ميرزا مسرور احمد خليفہ پنجم كی قيادت میں لندن میں سر گرم عمل ہے اور لندن میں ہی ٫٫ بيت المفتوح ٬٬ كے نام پر بڑی مسجد میں قائم كیے ہوۓ ہے ۔ ان كی آبادی ۷۰ لاكھ افراد كے قريب ہے ۔
اس فرقے نے قرآن كے كئی تحريف شدہ تراجم نشر كۓ ، كئی انٹرنیٹ سائٹیں اور ٹی وی چينلز ۲۰ زبانوں میں سر گرم عمل ہے ۔
عالمی اداروں كا اس گمراہ فرقہ كی بابت رد عمل :
یہ گمراہ فرقہ ہميشہ عالمی اداروں كی مخالفت كا سامنا كرتا رہا ہے اور دنيا كے مختلف علاقوں سے تعلق ركھنے والے علماء اور دانشوروں نے اس فرقے كو گمراہ قرار ديا ہے اسی حوالے سے ہندوستان كی انجمن اہل حديث كے سربراہ ٫٫ ابو الوفا ٬٬ اور ميرزا غلام احمد قاديانی كے درميان طويل مناظرے كا ذكر كيا جا سكتا ہے ۔جس میں اس فرقہ كو باقاعدہ كافر قرار ديا گيا ۔
مكہ مكرمہ میں ۱۹۷۴ ء میں عالمی انجمن اسلام كی طرف سے ہونے والی كانفرنس میں بھی اس فرقہ كو كافر قرار ديا گيا اور تمام مسلمانوں كو اس سے ہوشيار رہنے كی تلقين كرتے ہوۓ كہا كہ ان كے مردوں كو مسلمانوں كے قبرستان میں دفنانے كی اجازت نہ دی جاۓ ۔
207369