بھارت میں دس محرم كے جلوسوں كی كڑی نگرانی كے باجود بعض مقامات پر ماتمی جلوسوں پر انتہاپسند ہندوؤں كی جانب سے شرانگيزی كے واقعات رونما ہوئے ہیں۔پرانی دلی میں باڑاہند راؤ سے نكلنے والے سب سے بڑے جلوس پر امام باڑہ شاہ مرداں علاقہ صفدر جنگ میں وشواہندو پريشدكے شرپسندوں نے پتھراؤ كياجبكہ پوليس نے كارروائی سے گريز كيا۔ دریں اثناء بھوپال اور سری نگر میں پوليس نے ماتمی جلوسوں كے شركاء پر وحشيانہ طريقے سے لاٹھياں برسائیں۔ ممبئی، احمد آباد، بنگلور، ناگپور، مالے گاؤں،كانپور، بارانيكی، كولكتہ سميت دوسرے شہروں میں ايك ہندو انتہاپسند تنظيم نے شيعہ ماتمی جلوسوں پر پتھراؤ اوراشتعال انگيز مواد پر مبنی لٹريچر نقسيم كيا۔ وزيراعظم اتوار كے روز پی ايم ہاؤس میں اپنے مانیٹرنگ سيل كے ذريعے سے يوم عاشور كے جلوسوں كے بارے میں آگاہی حاصل كرتے رہے۔قبل ازیں ہفتے كو بھارت میں سيكورٹی كے خصوصی انتظامات كے دوران دارالحكومت نئی دہلی میں 10ہزار سے زائد پوليس كی اضافی نفری طلب كر لی گئی تھی۔كئی شہروں میں انتہاپسند ہندوؤں نے 8 اور9 محرم كے ماتمی جلوسوں میں گڑبڑ كی جس كی وجہ سے ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے۔ يوپی كے شہروں لكھنوٴ، بارابنكی، الہ آباد، امروہہ، بلند شہر، مظفر نگر، جموں و كشمير میں بھارتی فورسز نے عزاداروں پر وحشيانہ طريقے سے لاٹھياں برسائیں جس سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔ دہلی، ممبئی، بھوپال وغيرہ میں بھی شيعہ عزاداروں كے جلوسوں میں انتہا پسند ہندوؤں كی جانب سے شرانگيزی كی وجہ سے فرقہ وارانہ كشيدگی پيدا ہوئی ہے۔