قرآن مجيد ، تفكر اور تدبر كا سر چشمہ

IQNA

قرآن مجيد ، تفكر اور تدبر كا سر چشمہ

9:08 - January 24, 2008
خبر کا کوڈ: 1622994
فكر و نظر گروپ : قرآن مجيد صرف تلاوت كے لیے ہی نہیں ہے بلكہ تفكر اور تدبر كا بھی سر چشمہ ہے ۔

خوئی میں ادارہ تبليغات اسلامی كے انچارج حجت الاسلام و المسلمين ٫٫ معصومی نيا ٬٬ نے { بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } سے گفتگو كرتے ہوۓ امير المٶمنين حضرت علی علیہ السلام كے فرمان كا حوالہ ديتے ہوۓ كہا كہ قرآن مجيد ايك ايسا سمندر ہے كہ جس كی گہرائی كا ادراك نہیں كيا جا سكتا ٫٫ القرآن بحر لا يدرك قعرا ٬٬
انہوں نے سورہ مباركہ محمد كی آيت نمبر ۲۴ كی طرف اشارہ كيا جس میں خداوند عالم منافقين كو خطاب كر كے فرماتا ہے ٫٫ كيا منافقين قرآن كی آيت میں غور و فكر نہیں كرتے اور كيا ان كے كان بہرے اور آنكھیں اندھی ہیں كہ وہ جہالت اور بد بختی كی حالت میں مر جائیں ؟ ٬٬ اور كہا كہ اگر ہم اس آيت كے مضمون پر توجہ كریں تو معلوم ہوتا ہے كہ آيات الہی تفكر اور غور و فكر حقانيت اور نيك بختی تك پہنچنے كا ذريعہ ہے ۔
جناب معصومی نيا نے عقل كو قرآن كريم كی شناخت كا ذريعہ قرار ديا اور كہا كہ سورہ ﴿ ص ﴾ كی ۲۹ ویں آيت پر اگر توجہ كی جاۓ تو معلوم ہوتا ہے كہ شارع مقدس نے عقل كو آيات الہی میں تدبر كرنے كا وسيلہ قرار ديا ہے چنانچہ ارشاد خداوندی ہے ٫٫ یہ ايك مبارك كتاب ہے جسے ہم نے آپ كی طرف نازل كيا ہے ، تاكہ یہ لوگ اس كی آيتوں میں غور و فكر كریں اور صاحبان عقل نصيحت حاصل كریں ۔
خوئی كے ادارہ تبليغات اسلامی كے انچارج نے مزيد كہا كہ كلام وحی كی آيات میں غور و فكر كی اہميت اس قدر ہے كہ روايات میں ملتا ہے كہ جو لوگ قرآن كريم كی آيات میں غور و فكر نہیں كرتے قيامت كے دن پيغمبر اكرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اہل بيت علیھم السلام ان كی شكايت كریں گے ۔ انہوں نے ائمہ معصومين علیھم السلام كے نزديك قرآن مجيد كی عظمت كی طرف اشارہ كرتے ہوۓ كہا كہ امام سجاد علیہ السلام نے اس بارے میں فرمايا كہ اگر میں كسی جگہ پر تنہا ہوں اور كوئی ميرے ساتھ نہ ہو تو وہاں پر كتاب خدا ميری مونس اور بہترين دوست ہوتی ہے ۔
215241
نظرات بینندگان
captcha