۔
{ بين الاقوامی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿﴿ ايكنا ﴾﴾ } كی رپورٹ كے مطابق سعودی عرب كے اخبار ٫٫ المدينہ ٬٬ نے لكھا ہے كہ ٫٫ ليج ٬٬ كی بلدیہ كے ۲۳ اراكين نے ايك نام نہاد قانون پاس كر كے اس شہر كے تمام سركاری دفاتر میں مسلمان عورتوں كو اسلامی پردے میں حاضر ہونے سے روك ديا ہے اور پردے پر پابندی عائد كر دی ہے ، ان كی اسی بہيمانہ كاروائی كی دو ليبرل اور عيسائيوں جماعتوں نے بھی حمايت كی ہے جب كہ اس شہر كی بلدیہ میں موجود آٹھ اراكين نے اس قانون كی مخالفت كی ہے ۔ اس شہر كی بلدیہ كی ايك ركن ٫٫ فاطمہ پہلوان ٬٬ جو پردے پر پابندی كے قانون كی مخالف ہیں ان كا كہنا ہے كہ سركاری دفاتر میں حجاب كی ممانعت كسی صورت بھی ٹھيك نہیں ہے اور یہ بلجئيم كے معاشرہ پر ايك سياہ دھبہ ہو گا اور اس سے خواتين كی آزادی اور ان كے احترام كو پامال كيا گيا ہے كيونكہ یہ مسلمان خواتين كا فطری حق ہے كہ وہ پوری آزادی سے اپنے لباس كا انتخاب كریں ۔
218003