بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كےمطابق سعودی اخبار" الرياض" نے لكھا ہے كہ عبداللہ بن عبدالمحسن التركی" نےاس كانفرنس سے خطاب كرے ہوئے مختلف اسلامی مذاہب كےپيروكاروں كو مناسك حج كے دوران اتحاد و برادری كی تلقين كرتےہوئے اسے حج كا اہم ترين نتيجہ قرار ديا ہے۔ انھوں نے كہا كہ اسلامی ممالك كے سربراہان اور مسلمان خدا پر توكل كرتےہوئے اور احكام الہی سے استفادہ كرتےہوئے حج كے معنوی نتائج سے استفادہ كر كےدنيائےاسلام كی مشكلات حل كریں۔ انھوں نےمزيد كہا كہ دنيائے اسلام جلداز جلد مسئلہ فلسطين كے حل كے لیے قاطعانہ موقف اپنائے اور عراقی حالات كی بہتری كےلیے تمام عراقی گروہوں میںاتحاد و يكجہتی كی ضرورت ہے۔ مبلغين كے تعليمی ادارے كے سربراہ عبدالرشيد عبدالميمون عبدالخالق اور عالمی انجمن اسلام كے آئمہ جماعت نےبھی اس كانفرنس سے خطاب كيا اور حج كے مختلف آداب پر روشنی ڈالی۔ اس كانفرنس كے ديگر شركاء میں الازہر كےوكيل " عبدالفتاح علی محمد علوم" الازہر كے اسلامی تحقيقی سنٹر كے جنرل سيكرٹری علی عبدالباقی شحاتہ اور دوسری اسلامی شخصيات بھی شامل تھیں۔
331089