بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے نقل كيا ہے كہ آيت اللہ ری شہری نے كہا كہ حج كی بركات میں سے ايك دنيا كے مسلمانوں سے آشنا ہونا خاص طور پر علماء، خطباء، دانشوروں كا باہمی تعارف ہے اور حج كا موقعہ پر مسلمان ايك دوسرے سے زيادہ قريب آ سكتے ہیں۔ انھوں نے دشمنان اسلام كی سازشوں كو بے نقاب كرتےہوئے كہا كہ دشمن مسلمانوں كےخلاف جھوٹا پراپيگنڈا كر رہا ہے جس كی مثال پاپ كی نبی اكرم (ص) كی شان میں گستاخی اور اہانت آميز كارٹون كا شائع ہونا ہے۔ انھوںنےكہا كہ علماء دشمنوں كےمقابلہ كے لیے تيار ہو جائیں مسلمانوں كی كم ازكم ذمہ داری یہ ہےكہ وہ تمام مسلمانوں بالخصوص فلسطين ،عراق و افغانستان كےمسلمانوں كی مشكلات سے رہائی كے لیے دعائیں مانگی جائیں۔ انھوں نے كہا كہ حج مسلمانوں كے اتحاد كے لیے بہترين موقعہ ہے۔ ساحل عاج میں ايك كروڑ دس لاكھ مسلمان بستے ہیں اور اس سال ۴ ہزار مسلمان حج پر آئے ہوئے ہیں۔
330564