بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا") " ISESCO" كی طرف سے شائع ہونے والی كتاب كے مقدمہ میں آيا ہے كہ یہ كتاب پہلی مرتبہ ۱۹۹۲ء میں عربی زبان میں میں شائع ہوئی تھی اور تيرہ سال بعد مصنف نےموجودہ حالات كو مد نظر ركھتے ہوئے فرانسيسی اور انگريزی زبان میں شائع كرنا وقت كی ضرورت سمجھا۔ مقدمہ میں كہا گيا ہے كہ عورت اور اس كے معاشرتی كردار كی بحث ايك معركھ آلارا بحث ہے اس لیےمیں نے مناسب سمجھا كہ اسلام میں عورت كے معاشرتی مقام ومنزلت پرروشنی ڈالی جائے تاكہ ان لوگوں كوبھی حقيقت كا علم ہو جائے جو اس مسئلہ میں اسلام كے بارے میں غلط فہميوں كا شكارہیں۔ كتاب میں عورت كے معاشرتی مقام ہی نہیں بلكہ اس كے سياسی كردار كو بھی اجاگر كيا گيا ہے۔ التويجری نے مزيد كہا كہ انھی وجوہات كی بنا پر انھوں نے كتاب كو دوبارہ شائع كيا ہے۔
348268