بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا'' نے خبررساں ادارے (PTI) كے حوالے سے بتايا ہے كہ ہينس پیٹرك نے كشمير میں گلمرگ كے علاقہ كے ممتاز عالم دين بشير الدين سے گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ اس نے یہ اقدام ہرگز جان بوجھ كر نہیں كيا اور اس میں ہرگز اسلامی مقدسات كی توہين مقصود نہ تھی۔ پوليس كو دیے گئے بيان میں سویڈش سياح نے كہا تھا كہ اس كی بيوی ايك قطری مسلمان ہے جس نے اسے قرآنی آيات كے اسٹيكر دیے اور اس نے بغير سوچے سمجھے یہ اسٹيكر اپنے اسكی پولز پر چپكا لیے۔
ياد رہے اس توہين آميز واقعہ كے بعد كشمير كے مسلمان عوام نے تمام ادارے اور دكانیں بند كر كے اس اقدام كے خلاف سخت ايكشن لينے كا مطالبہ كيا تھا۔ ہينس پیٹرك كی معذرت خواہی كے بعد مذہبی رہنما بشيرالدين نے مسلمانوں سےاپيل كی ہے كہ وہ اس معاملے میں درگزر سے كام لیں۔
362264