بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے روزنامہ " Peninsula" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ مكہ كی بلند و بالا عمارتوں كے اوپر سے جب جائزہ ليا گيا تو یہ بات سامنے آئی كہ ان مساجد كا رخ مكمل طور پر كعبے كی جانب نہیں ہے۔ مذہبی امور كی سعودی وزارت كے نائب سيكرٹری نے كہا ہے كہ یہ كوئی بڑے پيمانے پر پيش آنے والا واقعہ نہیں ہے۔ ان كے مطابق قبلے كی سمت میں كوئی بڑا فرق نہیں تھا تاہم جديد تكنيك كو بروئے كار لاتے ہوئے كچھ پرانی مساجد میں تبديلياں كی گئی ہیں۔ اس معاملے كے سامنے آنے كے بعد قبلے كی درستگی كے لیے ليزر شعاع كے استعمال كی تجويز بھی پيش كی گئی ہے۔
383686