بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے فرانس كی ريگولر خبررساں ايجنسی " AFP" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ اس اجتماع كے شركاء نے اپنے ہاتھوں میں صومالیہ كے صدر " شريف شيخ احمد" كی تصاوير اٹھا ركھی تھیں اور نعرے لگا رہے تھے ہم صومالیہ میں امن اور اسلام كا نفاذ چاہتے ہیں۔ صومالیہ كے وزير داخلہ "عبدالقادر علی عمر" نے اس اجتماع سےخطاب كرتے ہوئے اس ملك میں اسلامی شريعت كے نفاذ كو قيام امن كا آغاز قرار ديا اور كہا كہ صومالیہ كی پارليمنٹ كو چاہیے كہ وہ اس ملك میں اسلامی قوانين لاگوكرنے كے لیے جدوجہد كرے۔ ياد رہے كہ ۱۸ اپريل ۲۰۰۹ء كو صومالیہ كی پارليمنٹ نے اتفاق رائے سے اس ملك میں اسلامی شريعت كے نفاذ كے حق میں ووٹ ديا تھا ۔ صومالیہ میں اسلامی شريعت كے نفاذ كا مسئلہ۱۹۹۱ء سے قومی اور مذہبی حلقوں میں وجہ نزاع بنا ہوا ہے۔
391429