بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق مذكورہ روزنامہ كے چيف ایڈیٹر "فلمينگ" جو كہ اسرائيل كی ايك يونيورسٹی كی دعوت پر اسرائيل كے دورے پر ہے، نے ايك اسرائيلی اخبار كو انٹرويو ديتے ہوئے كہا ہے كہ پيغمبر اسلام (ص) كے توہين آميز خاكوں كی اشاعت پر مسلمانوں كے رد عمل سے ظاہر ہوتا ہے كہ مسلمان يورپ میں بھی اسلامی قوانين نافذ كرنا چاہتے ہیں۔ اس نے كہا كہ ان خاكوں كی اشاعت سےميرا مقصد مسلمانوں كی توہين نہیں تھا بلكہ ميرا مقصد اسلام سےمربوط مسائل كے بيان میں سينسر پررد عمل ظاہر كرنا تھا۔ فلمينگ نے اپنے اقدام كا دفاع كرتے ہوئے كہا كہ میں اپنے اس اقدام سے پشيمان نہیں ہوں بلكہ یہ اقدام آزادی بيان كے قانون كے دائرے میں آتا ہے!
392850