بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" نے arcinfo كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ اس اسلامی ميوزيم كے منصوبے كے بانی "ناديا كارموس" نے كہا ہے كہ يورپی شہری اسلامی تہذيب وتمدن سے بالكل ناآگاہ ہیں جس كی وجہ سے مسلمانوں اور ديگر يورپی شہريوں كے درميان كشيدگی پائی جاتی ہے۔
انہوں نے مزيد كہا ہے كہ اس اسلامی ميوزيم كی تاسيس سے معاشرے میں امن وامان كی فضا قائم ہو گی اور سوئٹزرلينڈ كی عوام مغربی ثقافت اور عالمی توسيع میں مسلمانوں كے كردار سے آگاہ ہو گی۔
ناديا كارموس نے مزيد كہا ہے كہ ۲۰۰۰ء میں اس ميوزيم كی تاسيس كا منصوبہ بنايا تھا۔
اس عظيم منصوبے كے لئے ايك تاريخی مكان فراہم كيا گيا ہے اور اس مكان كے بہت سے حصوں كی تعمير نو ہو چكی ہے ليكن فی الحال اس مكان كے دوسرے حصوں كی تعمير كے لئے ہمارے پاس بجٹ نہ ہونے كی وجہ سے اس اسلامی ميوزيم كا افتتاح ۲۰۱۰ء كے آواخر میں ہو گا۔
469338