شام میں تعينات ايران كے ثقافتی اتاشی "علی موسوی زادہ "نے ۲۴ اپريل كو ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كے ساتھ خصوصی گفتگو كے دوران اس خبر كی تٲييد كرتے ہوئے واضح كيا ہےكہ یہ دھماكہ مقامی وقت كے مطابق ١۰:50پر دمشق كے "مرجہ" چوك سے حركت كرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ايران كے كلچرل سينٹر كے سامنے سے گزرنے والے آرمی كی ايك كار میں لگے بم كے ذريعے ہوا ہے ۔
انہوں نے مزيدكہا ہے كہ اس دھماكہ سے كلچرل سينٹر كی عمارت يا عملے كو كسی قسم كا نقصان نہیں پہنچا ہے لیکن گاڑی كے ڈرائيور كی حالت نازك بتائی جاتی ہے ۔
موسوی زادہ نے اس بات كی جانب اشارہ كرتے ہوئے كہ اس دھماكے میں ملوث غیر معلوم عناصر كے بارے میں كچھ كہنا قبل از وقت ہوگا خيال ظاہر كيا ہے كہ شام میں كچھ دن سے جاری سيز فائر كی جانب توجہ كرتے ہوئے یہ گمان كيا جاتا ہے كہ دمشق كو دوبارہ ناامن اور غيرمنظم كرنے كے لیے فرقہ واریت پھیلانے والے انتہا پسند گروپ اس دھماكے میں ملوث ہو سكتے ہیں ۔
993085