بين الاقوامی گروپ : بحرين میں حالیہ سياسی تبديليوں کی وجہ حكومتی ترقی كے فقدان كے مقابل پر اسلامی شعور کا ہونا ہے اور ملک میں موجودہ بحران ،اسٹيبلشمنٹ كے خلاف بغاوت كا پيش خيمہ ثابت ہو سكتا ہے بعنی ايك جانب تو حكومت كی سرنگونی كے حوالے سے بحرينی عوام كے مطالبات اور دوسری جانب سياسی عمل میں عدم پيشرفت نے بحرين كے موجودہ صورت حال كو مزيد خراب كر ديا ہے ۔
ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ کی رپورٹ کے مطابق بحرين میں موجودہ بحران اس خاموش چنگاری كے مانند ہے كہ رونما ہونے والا كوئی بھی حادثہ اسے شعلہ ور كر سكتا ہے اگرچہ كہ بحرينی حكمران ان مظاہروں كو قومی يا مذہبی اختلافات كے طور پر پيش كرنے كی مسلسل كوشش كر رہے ہیں اور بعض ظاہری اصلاحات کے ذریعے عوامی مظاہروں كی آگ كو ٹھنڈا كرنے كی ناكام كوشش كر رہے ہیں ليكن بحرينی عوام كا عزم اور ارادہ ملك میں موجودہ سياسی نظام كی مكمل تبديلی پر استوار ہے ۔ كيونكہ اكثريت كی رائے پر قائم جمہوری نظام ہی عوام كی تعمير و ترقی اور ان كو اپنے اہداف تك پہنچنے كے لیے مقدمات فراہم كر سكتا ہے ۔
993127