ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) نے "hurriyet" نیٹور كسے نقل كيا ہے دائیں بازو كی شدت پسند پارٹی "Danish defance league"كے رہنما نے روزنامہ "Ekstra Bladet" سے گفتگو میں ستر افراد كے قاتل نارويجين دہشت گرد سے اظہار ہمدردی كرتے ہوئے كہا میں آينڈرس بريك كے احساسات كو سمجھ رہا ہوں ہمیں يورپ اور ڈنمارك كو مسلمان ہونے سے بچانا چاہئے۔
ڈنمارك كے اسلام مخالف راہنما نے كہا مسلمانوں كی توہين كرتے ہوئے كہا يورپ اور ڈنمارك میں بسنے والے مسلمان جنگلی اور شدت پسندوں كا گروپ ہے اسی لئے ملك میں اسلامی نظريات پر پابندی ہونی چاہئے۔
ڈينش ڈيفنس ليگ كے راہنما نے مزيد كہا ابھی ہم اسلام اور مسلمانوں كے خلاف مقابلے كو پر امن جاری ركھیں گے البتہ بريك كے احساسات كو سمجھ رہا ہوں اور میں اس كا ہم فكر ہوں۔ میں اعلان كرتا ہوں كہ ہم تشدد پسند نہیں كرتے ليكن اگر مسلمانوں سے مقابلے میں تشدد كی ضرورت پڑی تو ہم تشدد كا راستہ بھی اختيار كریں گے۔
998282