پاكستان كی بين الاقوامی اسلامی يونيورسٹی كی سماجی علوم اور اصول دين فكيلٹی كی استاد "نادیہ مجاہد" نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا ) كے ساتھ خصوصی گفتگو كے دوران خيال ظاہر كيا ہے كہ اگرقوموں كے افراد بصيرت اور ہوشياری كے ساتھ اپنی يكجہتی اور وحدت كی حفاطت اور تقويت كریں تو كبھی بھی فاسد اور استبدادی قوتیں ان پر حكمرانی نہیں كر سكتیں ليكن اس كے لیے ايك آگاہ اور با شعور قوم كی ضرورت ہے البتہ اس بات پر توجہ ركھنی چاہيئے كہ آگاہی سے مراد صرف يونيورسٹی كا تعليم يافتہ ہونا نہیں ہے بلكہ معاشرے كے ہر فرد میں بصيرت اور شعور کے رشد کے لیے کوشش کرنی چاہيئے اور جب آگاہی كے حصول كا عشق اور تعليم كی ضرورت كا احساس پيدا ہو جائے گا اس وقت ہم قومیں ايك دوسرے كے ہاتھ میں ہاتھ دے كرايك گروپ كی صورت میں دينی تحريكوں كی خالق بن سكتی ہیں ۔
1000848