ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے اطلاع رساں ويب سائیٹ «news.sky»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ سال ١۹۹۵ء میں ملاڈيج كے حكم سے صرب فوج نے سربرنیٹسا میں رہنے والے ۸۰۰۰ مسلمانوں كا قتل عام كيا تھا جو يورپ میں دوسری جنگ عظيم كے بعد سب سے بڑی نسل كشی شمار كی جاتی ہے ۔ ابھی تك اجتماعی قبروں سے لاشوں كی تلاش جاری ہے اوراب تك تقريبا ٦۰ كے قريب اجتماعی قبریں كشف كی گئی ہیں جبكہ ۲۵۰۰ لاشوں كی ڈی اين اے كے ذريعے شناخت بھی كی جا چكی ہے ۔
قابل ذكر ہے كہ ہے اس قتل عام سے قبل اقوام متحدہ كی جانب سے سربرنیٹسا كے علاقے كو "پر امن اور محفوظ علاقہ " قرارديا گيا تھا ليكن علاقے میں امن برقرار کرنے کے لیے تعینات ہالينڈ سے تعلق ركھنے والے امن فوج كے ۴۰۰۰ مسلح فوجيوں كے سامنے یہ انسانيت سوز واقع رونما ہوا اور انہوں نے كسی قسم كے ردعمل كا اظہار نہیں كيا تھا ۔
1009590