بين الاقوامی گروپ : بحرين اور سعودی عرب کے درمیان الحاق کے لیے ہونے والے معاہدے کی شرائط پر بحرين كے تمام بنيادی وزارتخانوں من جملہ ؛ وزارت دفاع ، وزارت داخلہ اور قومی سلامتی كے ادارے میں عملدرآمد شروع كر ديا گيا ہے اور اب اس كے بعد سعودی عرب اس معاہدے كے ذريعے امارات كوبھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کررہا ہے ۔
ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے اطلاع رساں ويب سائیٹ "العالم"، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ بحرين میں حكومت مخالف الائنس كے ركن "قاسم ہاشمی" نے كہا ہے كہ رياض میں منعقد ہونے والی نشست كا ہدف سعودی عرب اور بحرين كے درميان معاہدوں پر اتفاق رائے نہیں تھا كيونكہ یہ مسئلہ پہلے سے ہی طے ہو چكا ہے بلكہ اس كا اصلی ہدف كانفرنس میں پيش كیے گئے مسائل پر خليج تعاون كونسل كے ركن ممالك میں عوامی ردعمل كا جائزہ لينا تھا ايسے مسائل جن سے ديگر ممالك بھی دوچار ہونگے اور سعودی عرب كو ان پر قبضہ جمانے كا موقع فراہم ہوگا ۔
انہوں نے واضح كيا ہے كہ مذكورہ كانفرنس كا مقصد سعودی عرب اور بحرين كے درميان ۸ اپريل كو ہونے والے معاہدے پر پردہ ڈالنا تھا جس كے مطابق بحرين كی باگ ڈور مكمل طور پر سعودی عرب كے ہاتھوں میں منتقل ہو جائے گی ۔
1010553