بين الاقوامی گروپ : مصر كی سياسی اور سماجی قوتیں اس حال میں خود كو صدارتی انتخابات كے دوسرے مرحلے كے لیے آمادہ كررہی ہیں جب بيرون ملك ہونے والی پولنگ اسلام پسندوں كے صدارتی اميد وار "محمد مرسی" كی برتری كی حكايت كر رہی ہے ، ليكن مصر میں جاری اقتصادی بحران اور بے روزگای كی بڑھتی ہوئی شرح كس حد تك مصر كے مستقبل پر اثر انداز ہو سكتی ہے ؟
سياست میں قديمی كہاوت مشہور ہے جسكا مفہوم یہ ہے كہ "صدارتی اميد وار جو وعدے ديتا ہے ، اور عہدہ سنبھالنے كے بعد جن پر وہ عمل كرتا ہے آپس میں كافی متفاوت ہیں" ۔ مشرق وسطی میں وعدے اور عمل كے درميان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا سول آزاديوں اور اسٹيبلشمنٹ و روايات كے سلاسل كے درميان فاصلہ ہے كہ اجتماعی دانش نہ ہی اس كا مكمل طور پر انكار كرسكتی ہے اور نہ اس پر عملدر آمد كی طاقت ركھتی ہے ، اسی لیے مصر كے صدارتی اميدواروں كی جانب سے ملك كی آئندہ اقتصاد كے بارے میں بيانات سے ہٹ كر اس كے حقيقی اعداد و شمار كی جانب توجہ كرنی چاہيئے ۔
1027279