ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ نے "Hurriyet Daily News" اخبار سے نقل كيا ہے كہ تركی كی يونيورسٹی "اتاترك" كے استاد "ہلدن اوزكان" نے اس بارے بتايا: یہ قرآن كريم كے نسخہ كا تعلق 15 اور 16 ہجری سے ہے اور دو میٹر تك زير زمين میں تھا۔
اس نے كہا یہ قرآن كريم كا نسخہ مخصوص انداز میں لپیٹا گيا تھا اور اس كے ساتھ ساتھ ايك خط بھی برآمد ہوا ہے جس پر 1916 سال درج تھا اور یہ خط ايك بحری فوج كے آفيسر كا تھا۔
اتاترك يونيورسٹی كے شعبہ تاريخ كے سربراہ حسين يورتاش نے بتايا: ہم نے 2011 سے اس تاريخی منطقہ میں كھدائی كا آغاز كيا ہے اور اس دوران كافی تعداد میں تاريخی نسخے برآمد ہوئے ہیں ليكن نمی كے باعث ان كا پڑھنا دشوار ہورہا ہے۔
اس نے مزيد بتايا: اس كھدائی كے دوران ايك قرآن كريم كا نسخہ بھی دريافت كيا گيا اس كا وزن 37 كلوگرام ہے اور وہ سونے كے اوراق پر لكھا گيا ہے۔
يورتاش نے كہا یہ نسخہ بہت زيادہ قيمتی ہے۔ ليكن ان كے خطاط كی نشاندہی نہیں ہوسكی۔
1141815