بين الاقوامی گروپ : قائد انقلاب حضرت آيت اللہ خامنہ ای نے پاكستان كے صدر كے ساتھ دوطرفہ ملاقات كے دوران اسلامی ممالك كے درميان تعلقات کے فروغ كو مسلمانوں كی مشكلات كے حل كا اہم ترين ذريعہ قرار ديتے ہوئے واضح كيا : امت اسلامیہ كے درميان تفرقہ اندازی صیہونيوں سميت ديگر استكباری قوتوں كے مسلمہ اور طے شدہ اہداف كا حصہ ہے ۔
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی(ايكنا) نے رہبر معظم كی ويب سائیٹ كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ قائد انقلاب اسلامی نے آج عصر كے وقت صدر پاكستان كے ساتھ ملاقات كے دوران مسلمانوں كی مشكلات كا ذمہ دار دشمن كی سازشوں كو قرارديتے ہوئے زور ديا : اسلامی دنيا كی انسانی ، فطری اور جغرافيائی صلاحيتوں اور توانائيوں كا احيا ان مشكلات كے حل میں بہت زيادہ موثر ہو گا ۔
حضرت آيت اللہ خامنہ ای نے اسلامی ممالك كے درميان تعلقات كے فروغ كو مسلم اقوام كے لیے اس كٹھن مرحلے سے سرخرو ہو كر نكلنے كا دوسرا اہم سبب قرار ديا اور واضح كيا ہے كہ امت اسلامیہ كے درميان تفرقہ اور اختلاف پيدا كرنا صیہونيوں سميت تمام مستكبرانہ قوتوں كے طے شدہ اہداف میں سے ہے ۔
1196321