اسرائیل کا دعوی؛ تل ابیب میں حملہ آور کے ہاتھ میں قران مجید تھا!

IQNA

اسرائیل کا دعوی؛ تل ابیب میں حملہ آور کے ہاتھ میں قران مجید تھا!

11:59 - January 02, 2016
خبر کا کوڈ: 3500033
بین الاقوامی گروپ: صھیونی چینل ٹو کے مطابق اسلام کو بدنام کرنے کی غرض سے کہا جارہا ہے کہ حملہ آور کے ہاتھ میں قرآن مجید موجود تھا!

بین الاقوامی گروپ: اطلاع رساں ادارے «دنیا الوطن» کے مطابق صھیونی ٹی وی کے مطابق خبروں میں بتایا جارہا ہے کہ تل ابیب میں حملہ آور کا تعلق داعش سے ہوسکتا ہے

عبری زبان میں نیوز چینل کے مطابق تل ابیب میں ایک ہوٹل پر حملہ آور شخص کے ہاتھ میں قرآن مجید موجود تھا ۔ اس حملے میں دو صھیونی باشندے ہلاک اور دس دیگر زخمی ہوگئے ہیں

صھیونی چینل ٹو ٹی وی کے مطابق گذشتہ روز گیارہ بجے کے وقت تل ابیب پر حملہ پیرس واقعے کے طرز پر کیا گیا ہے

کیا داعش تل ابیب تک پہنچ گئی ہے ؟

رام‌الله نیوز کے مطابق «کیا داعش تل ابیب تک پہنچ گیی ہے ؟» کہا جاتا ہے : کہ حملہ آور عبری زبان میں بات کرسکتا تھا اور حملہ پیرس حملے کے طرز پر کیا گیا ہے

رام‌الله نیوز کے مطابق مقبوضہ علاقوں (اسرائیل) میں غیرمعمولی ہتھیار کے ساتھ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے

عبری زبان ویب سایٹ میں دیکھایا گیاہے کہ حملہ آور حملے سے کچھ دیر قبل ہوٹل کے ساتھ والے اسٹور میں چہل قدمی کررہا تھا

حملے میں ہوٹل کا مالک بھی ہلاک ہوچکا ہے

قابل ذکرہے کہ اس حملے میں دو صھیونی ہلاک اور دس دیگر شدید زخمی ہوچکے ہیں

http://iqna.ir/fa/News/3471582

نظرات بینندگان
captcha