آخری سانس تک دہشتگردی کیخلاف لڑونگا، میں نہ رہا تو میرا بیٹا اس تحریک کو آگے بڑھائے گا، علامہ ناصر عباس

IQNA

آخری سانس تک دہشتگردی کیخلاف لڑونگا، میں نہ رہا تو میرا بیٹا اس تحریک کو آگے بڑھائے گا، علامہ ناصر عباس

14:10 - May 24, 2016
خبر کا کوڈ: 3500855
بین الاقوامی گروپ: ہم قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال کا پاکستان چاہتے ہیں، ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں امن ہو، سکون ہو، رواداری ہو، ایک دوسرے کا احترام ہو، جہاں فرقہ پرستوں کا راستہ روکا جائے، جہاں تمام مذاہب اور اقلیتوں کے لوگ محفوظ رہ سکیں۔
ایکنا نیوز- مجلس وحدت سربراہ نے بھوک ہڑتال کے حوالے سے اسلام ٹایمز سے گفتگو میں کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے بعد ہمیں امید تھی کہ اب پاکستان ایک نئی راہ پر گامزن ہوجائیگا، اب قاتلوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائیگا، فرقہ پرستوں کا راستہ روکا جائیگا، بدامنی کا خاتمہ کیا جائیگا، رواداری کو فروغ دیا جائیگا، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان اپنے اعلان کے ساتھ ہی دفن ہوگیا ہے، ان افراد کو مار دیا گیا ہے اور ان کا صفایا کیا جا رہا ہے جنہوں نے ریاستی اداروں یا فوج پر حملے کئے ہیں، لیکن فرقہ پرستوں اور کالعدم تنظیموں پر تاحال کوئی ہاتھ نہیں ڈالا گیا۔ نیشنل ایکشن پلان کے چند نکات پر عمل کرکے باقی نکات کو معطل کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ بنی کہ خرم ذکی جیسے نڈر اور شجاع آدمی کو شہید کر دیا گیا گیا، ڈیرہ اسماعیل خان میں پروفیشنلز کو قتل کر دیا گیا، پشاور میں استاتذہ اور پروفیسر کو مار دیا گیا، لیکن کسی ایک بھی قاتل کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ اسی صورت حال میں مجھے بھوک ہڑتال پر مجبور ہونا پڑا۔

عباس جعفری نے احتجاج کی نوعیت بدلنے کے حوالے سے کہا کہ دیکھیں ہم نے دھرنے دیئے، ہم نے احتجاجات کئے، ہم نے پریس کانفرنسز میں اپنے تحفظات بیان کئے، ہم نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جو مہذب قومیں اپناتی ہیں، ہم نے ہر لحاظ سے حکمرانوں اور ریاستی اداروں کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا، لیکن افسوس کہ ہماری شنوائی نہیں ہوئی، پاراچنار میں ایف سی کے اہلکاروں نے بےگناہ مظاہرین پر فائرنگ کر دی اور چار افراد کو شہید اور دس کے قریب لوگوں کو زخمی کر دیا گیا، الٹا انہیں دہشتگرد کہا گیا اور مقدمات بنا دیئے گئے، حد یہ ہے کہ ایک طرف دہشتگرد مار رہے ہیں تو دوسری جانب ریاسی ادارے، آپ جانتے ہیں کہ پاراچنار واحد ایجنسی ہے، جہاں پاکستان کا پرچم لہرا رہا ہے، جہاں کبھی بھی پاکستان مخالف سرگرمیاں نہیں کی گئیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ عمل انجام دیا گیا۔ اس ساری صورتحال نے مجھے مجبور کیا کہ بجائے ایسے اقدام کرنے سے جو امن و امان کو خراب کریں، ایک مہذب طریقہ اپناتے ہوئے بھوک ہڑتال شروع کروں۔
نظرات بینندگان
captcha