سوئٹزرلینڈ نے مسلمان پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی بجائے 2 لاکھ پاﺅنڈ جرمانہ ادا کر دیا

IQNA

سوئٹزرلینڈ نے مسلمان پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی بجائے 2 لاکھ پاﺅنڈ جرمانہ ادا کر دیا

12:57 - June 03, 2016
خبر کا کوڈ: 3500908
بین الاقوامی گروپ: سوئٹزرلینڈ کے ایک دولت مند گاﺅں کے رہنے والوں نے کوٹہ سسٹم کے تحت صرف 10 مسلمان پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر کے اس کے بدلے 2 لاکھ پونڈ جرمانہ ادا کیا جو 3 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد کی رقم بنتی ہے۔
ایکنا نیوز- ڈیلی پاکستان کے مطابق یورپ کے امیر ترین ملک سوئٹزرلینڈ کے ایک دولت مند گاﺅں کے رہنے والوں نے کوٹہ سسٹم کے تحت صرف 10 مسلمان پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر کے اس کے بدلے 2 لاکھ پونڈ جرمانہ ادا کیا جو 3 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد کی رقم بنتی ہے۔ اس گاﺅں کا نام اوبرول لائلی ہے جہاں 300 کے قریب افراد کروڑ پتی ہیں اور گاﺅں کی آبادی 22 ہزار کے قریب ہے۔ انہوں نے باضابطہ طور پر ایک ریفرنڈم کے ذریعے صرف 10 مسلمان پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر گاﺅں کی آبادی تقسیم ہوگئی اور بقیہ کو ”نسل پرست" کا نام دیا جانے لگا۔ پناہ گزینوں کو پناہ دینے کے معاملے پر گاﺅں کے میئر کا کہا کہ انہیں علم نہیں تھا کہ پناہ مانگنے والے 10 افراد شامی ہیں یا کسی اور علاقے سے بہتر روزگار کی تلاش میں آنے والے تارکین وطن ہیں جبکہ جہاں تک شامی تارکین کا تعلق ہے تو انہیں ان کے گھر کے قریب کیمپوں تک ہی محدود رکھا جائے۔ میئر نے کہا کہ اگر رقم کی ضرورت ہے تو ہم انہیں بھیج دیں گے لیکن انہیں پناہ دینے سے ایک غلط پیغام جائے گا اس کے بعد مزید لوگ انسانی سمگلروں سے رابطہ کر کے سمندر عبور کرکے یہاں آنا شروع ہو جائیں گے۔
نظرات بینندگان
captcha