
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «الوفد» کے مطابق استاد عبدالفتاح شعشاعی لحن، ادا اور خوبصورت تلاوت کے طور ہر بے نظیر قاری سمجھا جاتا تھا
دلنشین تلاوت کی بناء پر اس معروف قاری کو «تصویرگر معانی قرآن» کے عنوان سے یاد کیا جاتا ہے۔
استاد «عبدالفتاح شعشاعی» ۲۱ مارچ ۱۸۹۰ کو مصر کے صوبہ منوفیہ کے گاوں «شعشاع» میں پیدا ہوئے اور صرف بارہ سال کی عمر میں اپنے والد «محمود ابراهيم شعشاعی» کی تربیت کی وجہ سے حافظ قرآن بنا۔
استاد عبدالفتاح شعشاعی نے مختلف ممالک جیسے عراق، اردن، فلسطین، پاکستان، لیبیا، شام، انڈونیشیاء، انگلستان اور امریکہ کا سفر کیا اور فلسطین کے ریڈیو«الشرق الادنی» سے استاد «عبدالعظیم زاهر» اور استاد «کامل البهتیمی» کے ہمراہ تلاوت کا شرف حاصل کیا
آخر عمر میں مسجد «حضرت زینب(س)» قاهره سے ہر جمعے کو تلاوت کرتے رہے۔
شعشاعی نے سال ۱۹۶۱ سے رسمی طور پر مصر کے ریڈیو سے تلاوت کرنا شروع کیا اور دنیا بھر میں اپنی آواز سے لاکھوں دلوں کر گرویدہ بنایا۔
«ابوالقراء» کا لقب «محمد رفعت» اور «عبدالفتاح الشعشاعی» کے علاوہ کسی کو نہ ملا اور یہ دونوں قراء ہمیشہ تواضع اور انکساری میں مشہور رہیں اور انہوں نے کبھی خود کو کسی پر برتر قرار نہ دیا۔
استاد شعشاعی کی آرزو تھی کہ مسجدالحرام اور مسجدالنبی(ص) میں تلاوت کرتے، انہوں نے
سال ۱۹۴۸ کو حج کی سعادت حاصل کی اور شعشاعی کو مسجدالحرام اور مسجد النبی کی مساجد میں تلاوت کا شرف ملا
بلاآخر ۱۱ نوامبر سال ۱۹۶۲ کو عالم اسلام کا عظیم قاری دار فانی کو وداع کرگیے۔