
ایکنا نیوز- وفاقی حکومت کی جانب سے قرآن پاک کی تعلیم ترجمے کے ساتھ لازمی قرار دینے پر اہل سنت نے تحفظات کا اظھار کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر مہم میں مطالبہ کیا جارہا ہے کہ " وطن پاکستان کے 80% سے زیادہ آبادی والے عوام اہلسنت وفاقی حکومت سے اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اسکولوں کی تعلیم میں قرآن پاک کی تعلیم کے ساتھ شدت پسندانہ سوچ والے ترجموں کے بجائے امام احمد رضا خان رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کا کیا ہوا شعرہ آفاق ترجمہ "کنزالایمان شریف" کو رائج کیا جائے تاکہ مسلمان نسل میں قرآن پاک کی اصل تعلیم اور عشق و ادب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منتقل کیا جا سکے۔
قابل ذکر ہے کہ وزیرمملکت وفاقی تعلیم و تربیت بلیغ الرحمن نے پرائمری تعلیم تک ناظرہ قرآن کی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا ہے اور چھٹی جماعت سے بارہویں جماعت تک قرآن پاک بمع ترجمہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔