
ایکنا نیوز- بھارتی فوج کی مقبوضہ وادی میں پر امن مظاہرین پر فائرنگ میں اب تک 50 کشمیری شہید اور سینکڑوں دیگر زخمی ہوچکے ہیں۔ بھارتی فوج کی جارحیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے اور کشمیریوں پر طاقت کا استعمال ماورائے عدالت قتل کے مترادف ہے، بھارت اس طرح کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے محروم نہیں کرسکتا۔
امام جعمہ کویٹہ اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ سید ہاشم موسوی نے ایکنا نیوز سے انٹرویو میں کہاکہ قیام پاکستان کے وقت برطانوی استعمار نے ایک سازش کے تحت کشمیر کو متنازعہ خطہ قرار دیا تاکہ اس طرح سے علاقے پر تسلط برقرار رکھ سکے۔
موجودہ صورتحال پر اظھار خیال میں انہوں نے کہا : بھارت کشمیریوں کی آواز دبا کر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کررہا ہےٗ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیئے بغیر مسئلہ کشمیر کو ختم نہیں کرسکتا ہے۔انہوں نےبھارتی فوج کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی آواز زبردستی نہیں دبا سکتا ۔
واضح رہے کہ بھارتی فوجکے ہاتھوں تحریک آزادی کے نوجوان کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد مقبوضہ وادی میں احتجاجی لہر زور پکڑ گئی ہے جب کہ قابض فوج کی بربریت میں اب تک سینکڑوں کشمیری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔

علامہ سید ہاشم موسوی کا کہنا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور ہندوستان کو مذاکرات اور کشمیری عوام کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے اگر کشمیر کے عوام پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں تو انکے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے اور اگر وہ مستقل ریاست کی حیثیت سے رہنا چاہے بھی تو انکا حق ہے اور بالفرض اگر انکی اکثریت ہندوستان کے ساتھ رہنا چاہے گرچہ بعید نظر آتا ہے کہ وہ ایسا چاہتے ہو تو بھی انکے فیصلے کا سب کو احترام کرنا چاہیے۔
علامہ سید ہاشم موسوی نے تکفیری حامی تنظیموں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظھار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں گرچہ بعض شدت پسند تنظیمیں عوام پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہی ہیں مگر نہیں لگتا کہ کشمیری عوام جو اعتدال پسند ہے انکی سرپرستی قبول کریں گے اور اگر کشیمری عوام پاکستان کے ساتھ رہیں گے تو اس بات کا خدشہ بھی نہیں رہے گا کہ وہ شدت پسند تنظیموں کے اثر میں آئیں گے اور دوسری بات یہ کہ وہاں کو بیدار اور باشعور عوام کسی طور شدت پسند گروہوں کی سرپرستی بھی برداشت نہیں کریں گے۔
امام جعمہ کویٹہ نے مزید کہا کہ حضرت علی (ع) کے فرمان کے مطابق مظلوم کی حمایت اور ظالم کے خلاف اٹھانا ہر مسلمان پر لازم ہے اور اس حوالے سے تمام اسلامی ممالک پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔
انہوں نے اسلامی ممالک کی تنظیم کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بعض شدت پسند ممالک کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے یہ تنظیم اب غیر فعال ہورہی ہے حالانکہ اس تنظیم کے قیام کا مقصد ہی مظلوم اسلامی ممالک اور عوام کی حمایت کرنا ہے مگر آخری سالوں میں اس حوالے سے تنظیم کی پالیسی ناقص رہی ہے۔
مجلس وحدت کے رہنما نے مزید کہا کہ تمام اسلامی ممالک اور مسلمانوں کو اسطرح سے بھارت پر دباو ڈالنا چاہیے کہ وہ کشمیریوں پر مظالم سے ہاتھ روکنے پر مجبور ہوجائے۔

انہوں نےکہا کہ عالمی برادری پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرے اوربھارتی فورسز کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہئے۔