امریکی شیعوں نے آستان قدس رضوی کے میوزیم کادیدار کیا

IQNA

امریکی شیعوں نے آستان قدس رضوی کے میوزیم کادیدار کیا

13:50 - August 03, 2016
خبر کا کوڈ: 3501285
بین الاقوامی گروپ:امریکی شیعوں کے ایک گروہ نے حرم مطہر رضوی میں مشرف ہوکر آستان قدس رضوی کےمیوزیم کا دیدار کیا
ایکنا نیوز-آستان نیوز کے رپورٹ کے مطابق اس زائرین کےقافلہ نےکہ جو 28 امریکی شیعہ زائراور دوانڈین شیعہ زائر افراد پر مشتمل تھا ایک زیارتی اور سیاحتی ٹیم کے طورپر ایران میں سفرکرتے ہوئے حضرت علی بن موسی الرضا (ع) کے روضہ منورہ میں مشرف ہوکر آستان قدس رضوی کے غیر ایرانی زائروں کے خصوصی پروگراموں سے کوثر اور غدیرہالوں میں استفادہ کیا ۔
اس کے علاوہ ان زائروں نے قرآن اور قیمتی چیزوں کے خزانے کے میوزیم ، مقام معظم رہبری کے ہدایا و تحایف ،استاد فرشچیان کے اہدایی آثار کےخصوصی ہال اور آستان قدس رضوی کے مرکزی میوزیم کا دیدار کر تے ہوئے ایران کے ثقافتی اور تاریخی خزانوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ واقفیت حاصل کی ۔ 
کوثر فاطمہ حسن اس ٹیم کی سپروائزر ہے کے جو تیسری بارآٹھویں امام کے حرم مطہر میں مشرف ہوئی تھی ، کہتی ہے : جب میں حرم مطہر میں وارد ہوتی ہوں ،احساس کرتی ہوں کے ان امام بزرگوار کے حضور میں ہوں اور میرے پورے وجود کو یہ احساس ڈھانپ لیتا ہے۔ اور دوسری طرف میرے وجود میں جو ایک پیاس محسوس ہوتی ہے وہ اس مقدس مقام پر آکر سکون حاصل ہوتا ہے اور اس زیارت و حاضری سے دل نہیں بھرتا۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ہمارے اس گروپ میں چار افراد پہلی مرتبہ زیارت سے مشرف ہورہے ہیں ، کہا: یہ لوگ جب حرم مطہر میں داخل ہوئے تو اس مقدس مکان کی معنوی فضا سے حیرت میں رہ گئے اور اپنے احساس قلب کو بیان نہ کرسکے اور یہاں کی معنوی فضا اور ماحول نے ان کے وجود پر بہت اثر دکھایا۔
اس قافلے کے سالار نے مقام معظم رہبری کے ہدایا کے میوزیم کے وزٹ کے دوران کہا: آستان قدس رضوی کے میوزیم میں بہت زیادہ تاریخی اور قیمتی آثار موجود ہیں۔ مثلا عصر عاشور کے منظر کا فریم اس میوزیم میں بہت زیادہ موثر ہے۔
اس نے مزید کہا: میں سن 2000 اور 2015 میں مشہد مقدس میں مشرف ہوچکی ہوں لیکن پھر بھی ہر مرتبہ جب بھی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضہ منورہ میں وارد ہوتی ہوں تو اس روضہ کے صحن و ہال کی تعمیرات سے حیرت میں رہ جاتی ہوں۔
کوثر فاطمہ حسن نے حرم مطہر رضوی کی کاشی کاری اور آئینہ کاری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: یہ آثار اسلام و ایرانی آثار کے جلوے ہیں کہ جن کو صرف اسی مقدس مکان میں اچھی طرح دیکھا جاسکتا ہے۔
انہوں نے اس بیان کے ساتھ کہ اس گروپ کے پاس آٹھویں امام کی بارگاہ کے آثار کو دیکھنے کا بہت کم ٹائم ہے ،کہا: اگر ان غیرایرانی زائرین کے ہمراہ حرم مطہر رضوی کی تعمیرات کا ماہر قافلوں کے ساتھ رہنمائی و وضاحت کرے تو یہ زائرین بہتر سے بہتر اس ایرانی معماری سے آشنا ہوسکتے ہیں۔
اس ہندوستانی شیعہ زائر مقیم امریکہ نے ایران کے خلاف دیگر ممالک میں پروپیگنڈہ کے متعلق اشارہ کیا اور کہا: اس قافلہ کے لوگوں کے لیے ایران کے روڈوں کی صفائی ستھرائی ،مزارات میں پاکیزگی اور مہمان نوازی اور محبت و پیار بہت ہی زیادہ قابل قدر ہے اور ہم نے جو کچھ امریکہ میں ایران کےبارے میں سنا تھا اصلا مطابقت نہیں رکھتا ۔
انہوں نے وضاحت کی :ہم نے اس زیارتی و سیاحتی سفر میں ایران کے تہران ، قم ، شیراز ، نیشاپور اور مشہد مقدس کی سیر کی اور اس شہروں میں اسلام سے پہلی اور تاریخی چیزوں کی جس اہمیت کے ساتھ حفاظت ہوتی ہے ہمارے لیے قابل قد رہے ۔
کوثر فاطمہ حسن نے حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے اپنی خواہش کے بارے میں بیان کیا : میری نظر میں دنیا بھر کے وہ شیعہ حضرات کہ جو آج تک اس مقدس روضہ کی زیارت سے مشرف نہیں ہوپائے ہیں تو میری یہی دعا ہے کہ مولا ان کو توفیق عطا فرمائیں وہ بھی اپنے مولا کے روضہ کی زیارت سے مشرف ہوجائیں ۔
قابل ذکر ہے کہ اس امریکی شیعہ گروپ نے آستان قدس رضوی کے ادارہ زائرین غیرایرانی کے خصوصی پروگراموں سے بھی استفادہ کیا
نظرات بینندگان
captcha