
ایکنا نیوز- روزنامه ٹیلیگراف کے مطابق نيكولا ساركوزی نے اسلامی تیراکی لباس پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا : اقلیتی افراد اور مہاجرین یہاں کی ثقافت اور تشخص کے لیے خطرہ ہیں
سال ۲۰۱۲ کو صدارتی انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے والا نيكولا ساركوزی صرف ایک بار صدر رہا ہے۔
نيكولا ساركوزی نے انتخاباتی مہم کے دوران ایک اجتماع سے خطاب میں کہا : ہم فرانس کے سواحل پر اسلامی لباس کو برداشت نہیں کرسکتے اور پورے ملک میں اس پر پابندی ہونی چاہیے۔
ساركوزی نے کہا کہ وہ صدر بن کر فرانس کی ثقافت اور پہچان کو اجاگر کرنے کی کوشش کرے گا۔
ساركوزی داعش کے حملوں کو پوائنٹ بنا کر اس صورتحال کی تبدیلی کو انتخاباتی ایشو بنانے اور اپنی کامیابی کے لیے زریعہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔