
ایکنا نیوز- پریس ٹی وی کے مطابق عراق کے صوبہ نینوا کے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ داعش نے زیر تسلط علاقوں میں نماز کی اوقات بدلنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص اس حکم کے خلاف ورزی کرے گا اسے سخت ترین سزا دی جائے گی
ذمہ دار شخص نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ داعش کی اوقات کار اور عراق و شام کی سرکاری ٹائمنگ میں بہت فرق موجود ہے
داعش نے نماز میں خاتم النبین حضرت محمد مصطفے (ص) اور آنکی آل پر نماز اور نماز کے بعد درود بھیجنے کو بھی بدعت قرار دیا ہے۔
سال ۲۰۱۴ میں عراق اور شام کے مختلف علاقوں پر قابض ہونے کے بعد سے اس دہشت گرد تنظیم کے عناصر نے ان علاقوں میں بدترین مظالم ڈھائے ہیں
آخری سال میں عراق اور شام کے فوجوں نے متعدد علاقوں کو داعش سے چھڑا لیے ہیں۔
عراق حکام نے سال ۲۰۱۶ کے آخر تک موصل کی آزادی کے ساتھ عراق سے اس گروپ کے خاتمے کا بھی دعوی کیا ہے۔