دہشت گردی کو اسلام سے منسلک نہیں کیا جاسکتا، خطبہ حج

IQNA

دہشت گردی کو اسلام سے منسلک نہیں کیا جاسکتا، خطبہ حج

8:52 - September 12, 2016
خبر کا کوڈ: 3501537
بین الاقوامی گروپ:عالم اسلام اپنے اندر سے فرقہ واریت کو ختم کرکےاتحاد پیدا کرے، حکمرانوں اور مسلمانوں پر کفر کا بہتان لگانے والا فتنہ پرور ہے
دہشت گردی کو اسلام سے منسلک نہیں کیا جاسکتا، خطبہ حج
ایکنا نیوز- ڈیسک مینجر-مسجد نمرہ میں خطبہ حج کے دوران امام کعبہ نے فرمایا کہ اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا نائب بنایا ہے، اے ایمان والوں سچی اور سیدھی بات کرو، دنیا وقت مقررہ پر ختم ہوجائے گی جبکہ آخرت ہمیشہ کے لیے ہے، اللہ کے نافذ کردہ احکامات پر عمل سے دنیا اور آخرت میں کامیابی ملے گی۔ اللہ نےتمہیں جن نعمتوں سے نوازا ہےاس کاجواب قیامت کےدن طلب کیا جائےگا،اللہ پاک نےزمین پردین کےنفاذکےلئےانبیائےکرام کوبھیجا ، اللہ نے مسلمانوں کے لیے دین اسلام منتخب کیا کیونکہ اس سے سچا کوئی دین نہیں۔ اللہ نےمسلمانوں پریہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ وہ زمین پر اللہ کا نظام نافذ کریں۔
اسلام کی بنیادی تعلیمات کے حوالے سے امام کعبہ نے فرمایا کہ عدل و انصاف اسلام کے سر کا تاج ہے، بے شک عدل میں خیر ہی خیر ہے، حضور ﷺکو پوری کائنات کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا، مسلمان کو چاہیے کہ اسوہ حسنہ سے ان مسائل کا حل نکالے، امت دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے تمام معاملات اپنے ہاتھ میں رکھے۔
دہشت گردی کے حوالے سے امام کعبہ نے فرمایا کہ دنیا کو اس وقت مختلف شکلوں میں  دہشت گردی کے فتنے کا سامنا ہے ، دہشت گردی کو کسی بھی قوم یا دین سے نہیں جوڑا جاسکتا، دہشت گردی کا اسلام اور امت مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں، دہشت گرد تکفیر اور دھماکوں سے امت مسلمہ کو کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں، انہوں نے نوجوانوں کو ورغلا کر فساد کی راہ پر چلا دیا ہے،  لوگوں کو اچھائی کی طرف اچھے طریقے سے بلانا علما کی ذمے داری ہے، لوگوں کو دہشت گردی سے دور رکھنے کے لیے علما کردار ادا کریں۔ علما کو سخت مزاجی ترک کرکے خوش مزاجی سے لوگوں کو قریب لانا ہوگا۔
امام کعبہ نے مزید فرمایا کہ اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ فلسطین کا ہے، مسجد اقصیٰ ہمارا قبلہ اول تھا، اس کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے جبکہ شام میں بھی لوگ مشکل کا شکار ہیں۔ اللہ ایک ہے، اللہ کا رسول ایک ہے ، ہماری کتاب ایک ہے، ہمیں فرقہ واریت سے دور رہنا چاہیے، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو، آج امت مسلمہ مختلف مسائل اور تکالیف کا شکار ہے، عالم اسلام اپنے اندر سے فرقہ واریت کو ختم کرکےاتحاد پیدا کرے، حکمرانوں اور مسلمانوں پر کفر کا بہتان لگانے والا فتنہ پرور ٹولہ ہے، مسلمان پر مسلمان کی عزت ، مال اور خون حرام ہے، ایک انسان کو قتل کرنے والے نے پوری انسانیت کو قتل کیا،ایک انسان کو بچانے والے نے پوری انسانیت کو بچایا، ظلم اور زیادتی کرنے والا قیامت کے دن جوابدہ ہوگا، فساد پھیلانے والوں کو فوری ان کے انجام تک پہنچایا جائے۔
قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں سابق امام کعبہ ایرانیوں کے حوالے سے کفر کا فتوی صادر کرچکا ہے جبکہ فرقہ واریت سے دوری کا درس دینے والے مفتی اعظم کے حکمران دنیا میں فرقہ واریت پھیلانے کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں۔
نظرات بینندگان
captcha