
ایکنا نیوز- العالم نیوز کے مطابق نیشنل جیوگرافک نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پانچ صدیوں بعد پہلی بار بھاری پتھر کو حضرت عیسی(ع) کے مزار سے اتار دیا گیا ہے
ماہر آثار قدیمہ فرڈریک هیبرٹ کا کہنا ہے : ہم نے قبر کے نصب سنگ مرمر کے نازیک تہہ کو اتار دیا ہے مگر اسکے نیچے نصب عجیب پتھر سے ہمیں حیرانگی ہوئی ہے بہرحال ہم آخری پتھر تک پہنچ جائیں گے جس پر حضرت عیسی [علیه السلام] کا جسد اطہر رکھا گیا ہے۔
پتھر کو ہٹانے کی وجہ حضرت عیسی [علیه السلام] کے جسد اطہر کے نیچے زمین کی خرابی بتائی جاتی ہے
موروپولو کا کہنا ہے : ہم تعمیر پر کام کررہے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد لی جارہی ہے تاکہ دنیا بھر میں حضرت عیسی [علیه السلام] کے چاہنے والے کہیں سے بھی مزار کی زیارت کرسکے
امید کی جارہی ہے کہ مزار پر تعمیری کام اس سال کے آخر تک مکمل کرلیا جائے گا اور اس پر چالیس لاکھ ڈالر لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس کلیسا پر چھ مسیحی فرقوں کا عقیدہ ہے اور اسکی تعمیر کے لیے تمام فرقوں کی اجازت ضروری ہے۔
ایک فرقے کا خیال ہے کہ حضرت عیسی کو وقت کے یہودیوں کے ہاتھوں قتل کیا گیا ہے حالانکہ قرآن کی سورہ نساء کی آیت ۱۵۷ میں فرماتا ہے کہ
ترجمہ : ہم نے عیسی پیغمبر کو قتل کیا، حالانکہ انہوں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ انہیں گمان ہوا ہے،وہ لوگ حضرت عیسی کے اوپر منتقل ہونے پر شک کرتے ہیں۔ یقینا حضرت عیسی قتل نہیں ہوئے بلکہ خدا نے انہیں نے انہیں اپنے پاس اٹھا لیا ہے وہ قادر و توانا ہے :
ایک اور فرقے کا خیال ہے کہ حضرت عیسی [علیه السلام] کا چہرہ شمعون قیروانی (صلیب اٹھانے والا) سے بدل گیا تھا اور انکو حضرت عیسی کی جگہ صلیب پر چڑھایا گیا ہے۔