ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے پروگرام 'ان فوکس ' میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے140ویں یوم پیدائش اور کرسمس کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں قائد اعظم کا یوم پیدائش ضرور منانا چاہیئے لیکن اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ ملک میں تعصب اور تنگ نظری ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم قانون میں لفظ اقلیت استعمال کرتے ہیں، انھیں اپنے برابر تسلیم نہیں کرتے اس لئے پاکستان میں رہنے والی تمام اقلیتیں خوف کا شکار رہتی ہیں۔
سینئر تجزیہ کار کے مطابق ہم نے ہر شخص کو اس کے مذہب اور مسلک کی بنیاد پر دیکھنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے ہم پر امن طریقے سے نہیں رہ پائیں گے۔
پروفیسر ہود بھائی نے مزید کہا کہ تعصب پھیلنے کی وجوہات میں سے ایک وجہ ہمارے یہاں پڑھایا جانے والا نصاب ہے جسے تبدیل کئے جانے کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ اس تعلیمی نظام سے جو باہر نکلتا ہے وہ دنیا کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔
واضح رہے کہ گذشتہ دنوں پنجاب کے ضلع چکوال کے گاؤں ڈھلمیال میں ایک ہزار کے قریب مشتعل ہجوم نے احمدی برادری کی عبادت گاہ کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
جس کے بعد پولیس کی جانب سے ہجوم کو منتشر کر دیا تھا تاہم اس واقعے میں 2 افراد کے ہلاک اور ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
ان واقعات کے بعد ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز وائز' میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون پنجاب نے یقین دہانی کرائی تھی کہ احمدی برادری کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور ان کا تحفظ کیا جائے گا۔
تاہم چکوال میں احمدی برادری کی عبادت گاہ پر مشتعل ہجوم کے حملے کے بعد غیر محفوظ حالات کےباعث احمدی برادری کے کئی افراد نے علاقے سے نقل مکانی شروع کرد دی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ دیگر اقلیتوں کے علاوہ مختلف شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں اہل تشیع بھی فرقہ وارانہ دہشت گردی میں جان بحق ہوچکے ہیں اور اسی بناء پر لاکھوں اہل تشیع دیگر ممالک میں ہجرت کرچکے ہیں۔