
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «info-europa» کے مطابق جرمن پولیس نے سلفیوں کے خلاف «سچا مذہب » نامی مہم کے خلاف کارروائی کرکے اب تک سلفیوں کے ترجمہ شدہ ہزاورں قرآنی نسخے ضبط کرچکی ہے
رپورٹ کے مطابق پولیس مشکل میں پڑگیی ہے کہ ان نسخوں کے ساتھ کیا کرے اور ظاہرا فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان نسخوں کو دفن کیا جایے.
صرف جرمن شهر کلن کے ایک گودام سے ۲۲ هزار قرآن برآمد ہوچکے ہیں ۔
جرمن سیاست دان توما ڈو مزیر کا کہنا ہے کہ ان ترجموں کو پڑھ کر سو سے زاید جرمن جوان عراق اور شام جاکر داعش میں شامل ہوچکے ہیں ۔
جرمن حکام نے مسلمان نمایندوں سے رابطہ کیا ہے تاکہ ان ضبط شدہ قرآنی نسخوں کی بیحرمتی کیے بغیر ان کو مٹایا کیا جاسکے
اب تک بہترین آپشن انکو دفنانے کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔
جرمنی میں ان دنوں سلفی مکتبہ فکر کے حوالے سے سخت تحفظات اور خطرات کا اظھار کیا جارہا ہے
ہمبرگ میں تحقیقاتی مرکز کے محقق«اسٹیفن راسينی» کا کہنا ہے کہ جرمن مسلمانوں میں سلفیوں کی تعداد بہت کم ہے
مگراسی تعداد میں بھی یہ اسلام اور جرمن کا چہرہ بگاڑنے کے لیے کافی ہے۔