بین الاقوامی گروپ:پاکستان میں یہ غلط فہمی پیدا کی گئی ہے کہ حرمین شریفین اور سعودی عرب ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ اسی طرح سعودی بادشاہ چونکہ خود کو خادم حرمین شریفین کہلاتا ہے، اس لئے اس کا حکم سب مسلمانوں کو بجا لانا چاہئے

ایکنا نیوز- شفقنا-یہ واضح ہونا چاہئے کہ شاہ عبدالعزیز بن السعود نے گزشتہ صدی کے شروع میں نجد اور حجاز میں فتوحات حاصل کیں اور برطانوی فوجی مدد سے حرمین شریفین کے حکمران شریف مکہ کو اقتدار اور علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔
وہابی مسلک سے سیاسی مفاہمت کی وجہ سے سعودی ریاست کے قیام کے ساتھ ہی ملک بھر میں سخت اسلامی قوانین نافذ کئے گئے۔
دنیا کے مسلمانوں کی اکثریت اس شرعی تشریح پر یقین نہیں رکھتی جنہیں سعودی شاہی خاندان نے طاقت کے زور پر مروج کیا ہے۔
پھر تیل سے حاصل ہونے والی دولت کے بل بوتے پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے بیشتر اسلامی ملکوں کو یہ نظریات برآمد کرنے کی کوشش کی گئی۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران متعدد مسلمان ملکوں میں پیدا ہونے والے گروہی تصادم جزوی طور سے سعودی پالیسیوں کے مرہون منت ہیں۔