
ایکنا نیوز- نیوز ایجنسی الفجر کے مطابق مصر میں شدت پسندانہ افکار کی ترویج روکنے کے لیے وزارت اوقاف نے مساجد اور کتاب خانوں میں شدت پسندی پر مبنی کتابوں کو جمع کرنے کا حکم جاری کردیا ہے۔
«سوئز» صوبے کے ادارہ اوقاف نے مختلف مساجد سے کم از کم تین سو پچاس کتابوں کو ضبط کرلیا ہے۔
صوبہ «بحیره» کی وزارت اوقاف کے نمایندے محمد شعلان نے کہا ہے کہ ان کتابوں کے علاوہ شهر «دمنهور» کی مسجد «مکرم» سے نادر قلمی نسخے بھی ضبط ہوچکے ہیں جنکو قومی میراث کے میوزیم میں جمع کیے جاچکے ہیں۔
الازھر کے استاد احمد کریمه نے مصر کے دیگر صوبوں جیسے «اسکندریه»، «سیناء» اور «مطروح» میں شدت پسندی کے خلاف کردار ادا نہ کرنے پر وزارت اوقاف پر تنقید کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں وزارت اوقاف کی بے توجہی کی سبب شدت پسند عناصر جوانوں کو گمراہ کرنے پر کام کررہے ہیں جو سنگین خطرات کا باعث بن سکتےہیں۔
وزارت اوقاف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں موجود کتابخانوں میں بڑی تعداد میں شدت پسندی پر مبنی کتابیں موجود ہیں جو مسایل پیدا کرسکتی ہیں۔
مختلف کارروائیوں میں ان کتابخانوں سے سید قطب(«تکفیری نظریہ پرداز اور مصنف»، حسن البنا(بانی جماعت اخوان المسلمین، مصر) ، یوسف القرضاوی(مصری مفتی جو شیخ فتنه کے نام سے معروف ہے) اور جماعت اسلامی کے جہادی لٹریچر برآمد ہوچکے ہیں۔
مصری وزارت اوقاف کے مطابق ان کتابوں کی مدد سے جوانوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے جن سے شدت پسندی کے خطرات میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔
3563213