مردان میں توہین رسالت کے الزام میں طالبعلم کی ہلاکت: 'جنگل کا قانون برداشت نہیں کریں گے'

IQNA

مردان میں توہین رسالت کے الزام میں طالبعلم کی ہلاکت: 'جنگل کا قانون برداشت نہیں کریں گے'

16:34 - April 15, 2017
خبر کا کوڈ: 3502810
بین الاقوامی گروپ: عمران خان نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں گستاخی کے الزام پر دیگر طلبہ کے تشدد سے ایک 23 سالہ طالب علم کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ایکنا نیوز- شفقنا- عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا، ‘میں اس معاملے پر خیبرپختونخوا کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سے مسلسل رابطے میں ہوں’۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے سخت الفاظ میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ‘جنگل کا قانون ہرگز برداشت نہیں کریں گے’۔

ان کا کہنا تھا کہ طالب علم کی ہلاکت میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی ضروری ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے بھی اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ‘مردان میں پیش آنے والا واقعہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ کس طرح بڑھتی ہوئی عدم برداشت معاشرے کے تانے بانے کو تباہ کر رہی ہے’۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز خیبر پختونخوا کے شہر مردان میں واقع عبدالولی خان یونیورسٹی میں دیگر طلبہ کے تشدد سے ایک 23 سالہ طالب علم جاں بحق جبکہ ایک اور طالب علم زخمی ہوگیا تھا۔

ڈی آئی جی مردان عالم شنواری کے مطابق ہلاک ہونے والے طالب علم پر الزام تھا کہ اس نے فیس بک پر ایک پیج بنا رکھا تھا، جہاں وہ توہین آمیز پوسٹس شیئر کیا کرتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اسی الزام کے تحت مشتعل طلبہ کے ایک گروپ نے مذکورہ طالب علم پر تشدد کیا، اس دوران فائرنگ بھی کی گئی، تشدد کے نتیجے میں طالب علم ہلاک ہوگیا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شدت پسندی کو فروغ دیکر یا ان شدت پسندوں کی حامی پارٹیوں کے خلاف کارروایی کیے بغیر اس سلسلے کو روکا جاسکتا ہے؟

نظرات بینندگان
captcha