فرانس انتخابات اور مسلمانوں کی عدم دلچسپی

IQNA

فرانس انتخابات اور مسلمانوں کی عدم دلچسپی

7:03 - April 19, 2017
خبر کا کوڈ: 3502835
بین الاقوامی گروپ: فرانس کے صدارتی الیکشن کا پہلا مرحلہ اگلے ہفتے سے ان حالات میں شروع ہورہا ہے جہاں مسلمان موجودہ حکمران اور فرنچ پالیسیوں سے کوئی اچھی توقع نہیں رکھتے

فرانس انتخابات اور مسلمانوں کی عدم دلچسپی


ایکنا نیوز- فرانس میں تقریبا دو ملین کے لگ بھگ مسلمان ووٹرز موجود ہیں جنمیں سے اکثر نے گذشتہ انتخابات میں بائیں پارٹی کو ووٹ دیے تھے

فرانسوا اولاند نے پہلے مرحلے میں ۶۰ اور اگلے مرحلے میں ۹۰ ووٹ لیا مگر انہوں نے سارکوزی کی پالیسیوں کو جاری رکھا جس سے اسلامو فوبیا میں شدت میں اضافہ ہوتا گیا

اس انتخابات میں گیارہ امیدوار صدر بننے کے لیے الیکشن لیے حصہ لے رہے ہیں۔

ان امیدواروں میں سابق وزیر خزانہ «امانوئل ماکرون» جو اسلامو فوبیا میں دلچسپی نہیں رکھتے اور فلسطین کو تسلیم کرنے کے حق میں ہیں مسلمانوں کے نزدیک بہترپوزیشن کے حامل ہیں۔

انکے بعد «فرانسوا آسلینو» جو زیادہ معروف نہیں انکی پوزیشن بھی مسلمانوں کے نزدیک اچھی ہے۔


کنزرویٹو پارٹی کی «مارین لوپن» جو مسلم مخالف امور میں سب سے آگے نظر آتی ہے مسلم مخالف قرار دیا جاتا ہے

لوپن نے الیکشن مہم ہی اسلامی شدت پسندی سے مقابلے کے نعرے کے ساتھ شروع کی ہے

انہوں نے ٹرمپ کی تقلید میں اسلامو فوبیا اور اسرائیلی‌ حمایت کو کامیابی کے لیے راستہ قرار دیا ہے

«فرانسوا فیون» دیگر امیدوار ہے جو اسلام مخالف کتاب بھی لکھ چکا ہے جس سے اسکی زہنیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے

ماہرین کے مطابق لوپن دوسرے مرحلے میں فیون یا ماکرون سے ہار سکتی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ فرانس میں ہر پانچ سال کے بعد صدارتی الیکشن منعقد کیا جاتا ہے جسمیں شرط ہے کہ پانچ سو عوامی نمایندوں سے تائیدی دستخط لینے کے بعد امیدوار نام لکھوا سکتا ہے۔

انتخابات کا پہلا مرحلہ اگلے ہفتے سے شروع ہورہا ہے اور دس دن کے بعد دوسرا مرحلہ شروع ہوگا ۔

فرانس میں کیھتولک عیسائیوں کے بعد اسلام دوسرا بڑا مذہب شمار کیا جاتا ہے اور چیاسٹھ ملین کی آبادی میں یورپی ممالک میں سب سے زیادہ مسلمان یہاں آباد ہے

بعض سروے کے مطابق اس وقت فرانس میں چھ ملین مسلمان موجود ہیں ۔

3590904

نظرات بینندگان
captcha