
ایکنا نیوز- چونتیسویں قرآنی مقابلوں میں شریک گامبیا کے چوبیس سالہ قاری «عبدالعزیز علی سیلا» نے ایکنا نیوز سے گفتگو میں کہا : گامیبا کے بارے میں شیعوں کے حوالے سے عجیب باتیں کہی جاتی ہیں مگر جب سے ایران آیا ہو اندازہ ہورہاہے کہ ایرانی کسقدر دین اسلام کے پابند اور محبت کرنے والی قوم ہے جو شب و روز قرآن مجید کی خدمت کررہی ہے
انکا کہنا تھا: میں قرآن کا عاشق ہوں اور ایرانی حکومت کی قرآنی کاوشوں کو دیکھ کر آرزو کررہا ہوں کہ ایک دن آئے کہ میں ایران کو زندگی گزارنے کے لیے انتخاب کروں۔
حافظ عبدالعزیز قرآت میں اپنے ملک کی نمایندگی کررہا ہے اور سال گذشتہ موریتانیہ کے مقابلوں میں مقام اول بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
گامبیا کے قاری نے ایران میں مقابلوں کے معیار کو سراہتے ہویے اس آیت کی بھی قرآت کی : «إِنَّ هذَا الْقُرْآنَ يَهْدي لِلَّتي هِيَ أَقْوَمُ وَ يُبَشِّرُ الْمُؤْمِنينَ الَّذينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْراً کَبيراً: »(آیت ۹ سوره مبارکه اسراء) اور کہا کہ قرآن تمام مسلمانوں کے لیے شفاء بخش دوا ہے۔
عبدالعزیز نے قرآن مجید سے محبت کا اظھار کرتے ہوئے کہ کہ قرآن کے دوست میرے دوست اور دشمن میرے دشمن ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ میرا ارادہ ہے کہ ایک قرآنی اکیڈمی کھول کر بچوں کی قرآبیت تربیت کا کام انجام دوں۔
عبدالعزیز نے ایک سوال کے جواب میں قرآنی اساتذہ جیسے «خلیلالحصری، عبدالرحمن حذیفی، محمد صدیق منشاوی اور قاری عبدالباسط» کی تلاوت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں خود تلاوت میں ایرانی قاری«حامد شاکرنژاد» کی تقلید کرتا ہوں۔
انہوں نے گامبیا صدر کو قرآنی خدمات کو سراہتے ہوئے انکی کاوشوں کو بھی تعلیمات قرآن کی ترویج میں معاون قرار دیا ۔