اسلامی تشخص کی بقاء اور جامع مسجد تائیوان کا کردار

IQNA

اسلامی تشخص کی بقاء اور جامع مسجد تائیوان کا کردار

5:25 - June 07, 2026
خبر کا کوڈ: 3520301
ایکنا: تائیوان کے دارالحکومت تائپے کی جامع مسجد نے بیس سالہ تعلیمی منصوبے کے ذریعے آنے والی نسلوں کی دینی تربیت اور اسلامی تشخص کی بقاء کا ایک کامیاب نمونہ پیش کیا ہے۔

ایکنا نیوز-  مسلمون حول العالم نیوز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرقی ایشیا میں مذہبی آزادی، سماجی ہم آہنگی اور تدریجی طور پر بڑھتی ہوئی مسلم آبادی کے تناظر میں ایک اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اسلامی شناخت کو کیسے محفوظ رکھا جائے اور اسے ایک نسل سے دوسری نسل تک مسلسل منتقل کیا جائے؟

اس سوال کا عملی جواب آج تائپے جامع مسجد کے تجربے میں نظر آتا ہے۔ یہ ایک ایسا تعلیمی منصوبہ ہے جو دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ اس مسجد نے کامیابی کے ساتھ ان بچوں کو، جنہوں نے یہاں قرآن کریم اور اسلامی تعلیمات سیکھی تھیں، ایسے اساتذہ اور رضاکاروں میں تبدیل کر دیا ہے جو اب نئی نسل کی تعلیم و تربیت کے لیے واپس آئے ہیں۔

مسلمانوں کی بقا کے لیے مسلسل تعلیمی سلسلہ

مسجد کے ہفتہ وار اسلامی اسکول کے تعلیمی سال 2025-2026 کی اختتامی تقریب نے واضح کیا کہ حقیقی کامیابی صرف طلبہ کی تعداد یا اسناد کی تقسیم میں نہیں بلکہ ایک مسلسل تعلیمی اور تربیتی سلسلہ قائم کرنے میں ہے۔ آج کے بعض اساتذہ وہی افراد ہیں جو چند سال قبل اسی ادارے میں طالب علم کی حیثیت سے دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔

یہ تعلیمی ماڈل تائیوانی مسلم معاشرے میں اسلامی تعلیم کے تحفظ کی ایک قابلِ توجہ مثال ہے۔ اسکول قرآن کریم، عربی زبان اور اسلامی معارف کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایسے افراد کی تربیت بھی کرتا ہے جو اسلامی پیغام کو آگے منتقل کرنے اور آئندہ نسلوں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس طرح اسلامی شناخت محفوظ رہتی ہے اور نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔

اس ادارے میں مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے اساتذہ اور رضاکار خدمات انجام دیتے ہیں، جن میں چینی زبان بولنے والے افراد، نو مسلم حضرات اور تائیوان میں مقیم مسلم برادری کے ارکان شامل ہیں۔

یہ ثقافتی تنوع تعلیمی عمل کو مزید مؤثر اور وسیع بناتا ہے اور بچوں کو ایک ایسے ماحول میں اسلامی دنیا کے مختلف ثقافتی رنگوں سے آشنا کرتا ہے جہاں اپنی دینی شناخت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشرے کے ساتھ مثبت روابط بھی برقرار رکھے جاتے ہیں۔

اس منصوبے کی سب سے نمایاں کامیابی یہ ہے کہ آج تعلیم حاصل کرنے والے بچے کل کے اساتذہ بن سکتے ہیں، جبکہ آج خدمت انجام دینے والے بہت سے رضاکار دراصل اسی ادارے کے فارغ التحصیل طلبہ ہیں۔ یہی تسلسل تائیوان میں اسلامی شناخت اور دینی تعلیم کے استحکام کی ضمانت بن چکا ہے۔/

 

4356079

نظرات بینندگان
captcha